قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے 6 سال کے طویل وقفے کے بعد برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے لیے براہِ راست فلائٹ آپریشن بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے پاکستان اور برطانیہ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق اسلام آباد اور لاہور سے لندن کے لیے پروازوں کا باقاعدہ آغاز رواں ماہ کے آخر میں کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد سے ہفتہ وار 3 جبکہ لاہور سے ہفتہ وار 1 پرواز آپریٹ کی جائے گی، اس طرح ابتدائی مرحلے میں مجموعی طور پر 4 پروازیں ہفتہ وار چلائی جائیں گی۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد سے پہلی پرواز 29 مارچ کو روانہ ہوگی جبکہ لاہور سے پہلی پرواز 30 مارچ کو اڑان بھرے گی۔ ان پروازوں کے لیے جدید بوئنگ 777 طیارے استعمال کیے جائیں گے، جو طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
پی آئی اے کی تمام پروازیں لندن کے مصروف ترین ہوائی اڈے ہیتھرو ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر لینڈ کریں گی، جہاں مسافروں کے لیے بہتر سہولیات اور امیگریشن کا تیز نظام دستیاب ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ لندن روٹ پی آئی اے کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ گزشتہ 70 سال سے زیادہ عرصے سے قومی ایئرلائن کے نمایاں بین الاقوامی روٹس میں شامل رہا ہے۔ 2020 میں پابندی سے قبل پی آئی اے پاکستان سے لندن کے لیے ہفتہ وار 10 پروازیں چلا رہی تھی، تاہم سیکیورٹی اور ریگولیٹری مسائل کے باعث یہ آپریشن معطل کر دیا گیا تھا۔
اب پروازوں کی بحالی کے بعد برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی ہفتہ وار پروازوں کی مجموعی تعداد 7 تک پہنچ جائے گی، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں اس تعداد میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے نہ صرف پاکستانی مسافروں کو براہِ راست سفر کی سہولت میسر آئے گی بلکہ قومی ایئرلائن کی ساکھ میں بھی بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی، سیاحتی اور خاندانی روابط کو بھی فروغ ملے گا۔
مسافروں نے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہِ راست پروازوں کی بحالی سے سفر کا وقت کم ہوگا، اخراجات میں کمی آئے گی اور دیگر ایئرلائنز پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔