عمران خان کی آنکھ اور دستیاب سہولیات کا معاملہ، سپریم کورٹ میں پیش رپورٹ کی تفصیلات منظرعام پرآگئیں

عمران خان کی آنکھ اور دستیاب سہولیات کا معاملہ، سپریم کورٹ میں پیش رپورٹ کی تفصیلات منظرعام پرآگئیں

راولپنڈی کی اڈیالا جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے بانی عمران خان سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ منظرعام پرآگئی ہے جس میں ان کی صحت، روزمرہ معمول، سیکیورٹی انتظامات اور سیل میں دستیاب سہولیات کی تفصیلات شامل ہیں۔ رپورٹ میں عمران خان کی جانب سے اپنی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15 فیصد رہ جانے کا سنگین دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

بینائی متاثر ہونے کا دعویٰ

میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں پیش رپورٹ میں عمران خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6 بائی 6 یعنی مکمل طور پر نارمل تھی۔ تاہم بعد ازاں ان کی ایک آنکھ میں مسلسل دھندلاہٹ اور نظر مدھم ہونے کی شکایت شروع ہوئی۔ انہوں نے متعدد بار اس حوالے سے اُس وقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل کو آگاہ کیا مگر ان کے بقول کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ کے عمران خان سے متعلق اہم احکامات جاری

عمران خان کے مطابق اچانک ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً ختم ہوگئی جس کے بعد پمز اسپتال کے ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنے کے لیے بلایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آنکھ میں خون کا لوتھڑا (بلڈ کلاٹ) بن گیا تھا جس نے شدید نقصان پہنچایا۔ علاج اور ایک انجیکشن کے باوجود ان کی دائیں آنکھ کی بینائی اب صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔

رپورٹ میں عمران خان نے عدالت سے استدعا بھی کی ہے کہ ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے یا کسی مستند ماہر ڈاکٹر سے تفصیلی طبی معائنہ کروایا جائے۔

سیکیورٹی پر اطمینان، نگرانی سخت

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان نے اپنی حفاظت اور سیکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کی تشویش ظاہر نہیں کی۔ ان کے زیرِ استعمال کمپاؤنڈ میں تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔ ایک کیمرے کی کوریج غسل خانے کے حصے تک ہے تاہم سیل کے اندر کوئی کیمرہ موجود نہیں ہے۔

سیل بلاک اڈیالا جیل کے اندر تقریباً 5 منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے اور شام تقریباً 5:30 بجے سے اگلی صبح 10:00 بجے تک وہ سیل میں مقید رہتے ہیں۔

روزمرہ معمول

رپورٹ کے مطابق عمران خان صبح تقریباً 9:45 بجے ناشتہ کرتے ہیں جس میں ایک کپ کافی، دلیہ اور چند کھجوریں شامل ہوتی ہیں۔ دستیاب محدود آلات کے ذریعے ورزش کرتے ہیں۔

دوپہر 1:15 بجے غسل کے بعد انہیں محفوظ کمپاؤنڈ کے اندر چہل قدمی کے لیے شیڈ تک رسائی دی جاتی ہے جہاں وہ بیٹھ سکتے ہیں یا واک کرسکتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا تقریباً 3:30 سے 4:00 بجے کے درمیان دیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق دوپہر کا کھانا ہفتہ وار منصوبہ بندی کے تحت منتخب کیا جاتا ہے جس کے اخراجات خاندان برداشت کرتا ہے۔ مینو میں 2 دن مرغی، 2 دن گوشت، 2 دن دال جبکہ بعض اوقات چاٹ یا اسنیکس شامل ہوتے ہیں۔ وہ مکمل کھانا لینے کے بجائے پھل، دودھ اور کھجوروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہیں بوتل بند پینے کا پانی ‘نجی کمپنی کا پانی’ فراہم کیا جاتا ہے۔

سیل کی صورتحال اور سہولیات

رپورٹ میں سیل کی اندرونی صورتحال کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ سیل میں 3 ہائی وولٹیج بلب، ایک چھت والا پنکھا اور ایک بلوور ہیٹر موجود ہے۔ فرنیچر میں 2 میزیں، ایک کرسی، ایک چارپائی، بیڈ، ایک وال کلاک اور ایک چھوٹا ریک شامل ہے۔ 32 انچ کا ٹی وی دیوار پر نصب ہے تاہم چلانے پر خراب پایا گیا۔

مزید پڑھیں:عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا حکم جاری، اڈیالہ جیل جانے کی ہدائت

سیل میں الماری موجود نہیں، کپڑے 5 ہینگرز پر لٹکائے گئے ہیں۔ ایک سنگل بیڈ میٹریس، 4 تکیے اور 2 کمبل فراہم کیے گئے ہیں۔ جائے نماز، تسبیح اور 2 تولیے بھی موجود ہیں۔ تقریباً 100 کتابیں ایک میز پر رکھی تھیں جبکہ 2 ڈمبلز، 2 سیب، ٹشو پیپر، ماؤتھ واش، ایئر فریشنر، شیو جیل اور شیو کٹ بھی دستیاب تھے۔

ٹوائلٹ تقریباً ساڑھے 4 ضرب ساڑھے 4 فٹ پر مشتمل ہے جسے 4 فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا ہے اور اس کی چھت نہیں۔ ٹوائلٹ کے باہر گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولت، واش بیسن اور آئینہ موجود ہے۔

سیل بلاک کے کچن میں برتن، کراکری، مصالحہ جات اور خشک میوہ جات مرتبانوں اور بند ڈبوں میں محفوظ پائے گئے تاہم صفائی کے حوالے سے بہتری کی گنجائش محسوس کی گئی۔

قید تنہائی اور کتب کی فراہمی کا مطالبہ

سپریم کورٹ میں پیش رپورٹ کے مطابق عمران خان نے ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے مزید کتابوں کی فراہمی کی درخواست کی ہے تاکہ وہ مطالعے میں وقت گزار سکیں۔

مجموعی طور پر رپورٹ میں سیکیورٹی کے حوالے سے اطمینان جبکہ صحت، خصوصاً بینائی سے متعلق تشویش نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان کی جانب سے آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کا دعویٰ سامنے آنے کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے، جبکہ ان کے ذاتی معالجین سے معائنے کے مطالبے پر بھی توجہ مرکوز ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *