اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اگلے بدھ کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جس میں ایران کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان جامع تبادلہ خیال متوقع ہے۔
نجی ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے جاری بیان کے مطابق نیتن یاہو کی خواہش ہے کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی بات چیت کی جائے۔
نیتن یاہو کا موقف ہے کہ خطے میں ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور بیلسٹک میزائل پروگرام عالمی سلامتی کے لیے اہم چیلنج ہیں، اور انہیں مذاکرات کے دوران زیر بحث لایا جانا چاہیے۔
اس ملاقات کا پس منظر اس وقت اور بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے جب ایران نے عمان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران امریکی مطالبے کے باوجود یورینیم افزودگی روکنے سے انکار کر دیا۔
مسقط میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی میزائل صلاحیتوں پر کوئی بات نہیں ہوئی، جس سے اسرائیل اور امریکا کے درمیان اس معاملے پر مزید تبادلہ خیال کی ضرورت پیدا ہوئی ہے۔
اسرائیلی دفترِ وزیراعظم کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنما ایران کی جوہری اور دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی پر غور کریں گے۔اس کے علاوہ امریکا اور اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، جوہری افزودگی اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کے بارے میں مستقبل کے اقدامات کا جائزہ لیں گے۔
یہ ملاقات نہ صرف امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مستحکم کرے گی بلکہ خطے میں ایران کے جوہری اور دفاعی پروگرام پر عالمی ردعمل کو بھی متاثر کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
ملاقات کے نتائج کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ امریکا اور اسرائیل کس حد تک ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری افزودگی کے معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کریں گے۔