پاکستان کسٹمز نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر چاندی کی اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی، جس کے نتیجے میں بیرونِ ملک سے آنے والے دو مسافروں کے قبضے سے مجموعی طور پر 20 کلوگرام چاندی برآمد ہوئی ہے۔ کسٹمز حکام کے مطابق یہ کارروائی معمولی تلاشی کے دوران عمل میں آئی، جس سے ایک مرتبہ پھر ادارے کی بروقت اور مؤثر نگرانی کا ثبوت ملا۔
کسٹمز ذرائع کے مطابق دونوں مسافر دبئی سے اسلام آباد آنے والی پرواز PF-785 کے ذریعے پہنچے تھے۔ تلاشی کے دوران ایک مسافر کے سامان سے 14 کلوگرام چاندی برآمد ہوئی، جبکہ دوسرے مسافر کے قبضے سے 6 کلوگرام چاندی کے علاوہ ایک لیپ ٹاپ اور ایک موبائل فون بھی برآمد کیا گیا، جو تحقیقات کے لیے اہم شواہد کے طور پر قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔
برآمد کی گئی چاندی کی مجموعی مالیت تقریباً 2 کروڑ 18 لاکھ روپے تخمینہ جاتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسمگلنگ کا یہ نیٹ ورک کتنے بڑے پیمانے پر کام کر رہا تھا۔ کسٹمز حکام نے بتایا کہ دونوں ملزمان کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔
کسٹمز ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ چاندی کے ذرائع، ممکنہ اسمگلنگ نیٹ ورک اور دیگر ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر حفاظتی اقدامات اور اسکیننگ ٹیکنالوجی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی اسمگلنگ کی کوشش کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں کی اسمگلنگ ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے، اور ایسی کارروائیاں نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ قومی سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ بنتی ہیں۔
کسٹمز حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں، تاکہ پاکستان میں اسمگلنگ کی روک تھام مزید مؤثر طریقے سے کی جا سکے۔