امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ پاکستان کی مؤثر سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ختم ہوئی، لیکن اس کے دوران خطے میں بے شمار اہم اور حیران کن واقعات رونما ہوئے، جنہوں نے عالمی سیاسی، اقتصادی اور فوجی توازن کو بدل کر رکھ دیا۔
جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ قیادت شہید ہو گئی، جبکہ ایران کی اہم فوجی اور جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ اس حملے نے فوری کشیدگی پیدا کر دی اور عالمی سطح پر خبردار کر دیا۔
جوابی کارروائی کے طور پر ایران نے اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین میں امریکی اور اتحادی تنصیبات کو اپنے میزائلوں کی زد میں لایا۔ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں کئی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ دفاعی کارروائی کے عمل کا آغاز ہوا، جو جنگ بندی کے اعلان تک جاری رہا۔ عرب ممالک پہلی بار اسلامی بھائیوں کی جانب سے اتنی شدید جوابی کارروائی سے متاثر ہوئے، جس نے خطے میں سیاسی اور دفاعی توازن کو واضح طور پر بدل دیا۔
اس دوران امریکی فوج کے کئی جدید جہاز تباہ ہو گئے، جس سے امریکی ٹیکنالوجی کے راز آشکار ہوئے۔ ایک امریکی پائلٹ بھی ایران میں گر گیا، جس کی زندہ بازیابی کے لیے امریکا نے تاریخی ریسکیو آپریشن کیا جس میں 135 طیارے شامل تھے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن تھا۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے گر گئیں
امریکا نے جنگ کو مذہب کے ساتھ جوڑنے کی کوشش بھی کی اور دعویٰ کیا کہ فوج حضرت عیسیٰ کے لیے لڑ رہی ہے، لیکن مذہبی رہنما پوپ لیو نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت عیسی کا نظریہ جانوں کو بچانا تھا جانیں ختم کرنا نہیں تھا
امریکا نے اس جنگ کے لیے بجٹ کی سب سے بڑی رقم کی ڈیمانڈ کی، لیکن جنگ کے باعث اس ملک کو مالی طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔اربوں ڈالر کی ڈیمانڈ پر ٹرمپ اور اس کے ہم خیال حکمرانوں پر امریکا میں سخت تنقید کی گئی
جنگ کا ایک اور پہلو امریکا کی عالمی تنہائی بھی رہا۔ مغربی ممالک کے اتحاد نے امریکا کی حمایت سے انکار کر دیا، جو تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ اس سے قبل امریکا جب بھی کسی جنگ میں گیا یورپین ممالک کی طرف سے امریکا کا ساتھ دیا جاتا رہا لیکن اس بار تمام تر کوششوں کے باوجود امریکا کو کسی بھی یورپین ممالک کی طرف سے سپورٹ نہ ملی جس کی وجہ سے ٹرمپ ذہنی طور پر بھی دباو کا شکار رہے

