بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ہنگامی ورچوئل میٹنگ میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام بھی اس اہم اجلاس میں شریک ہیں۔ ذرائع کے مطابق امین الاسلام نے رات گئے لاہور پہنچ کر براہِ راست رابطوں اور مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔
اگرچہ آئی سی سی کا یہ اجلاس تکنیکی طور پر ورچوئل منعقد ہو رہا ہے، تاہم بی سی بی کے صدر کی پاکستان میں موجودگی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’امین الاسلام پاکستان کی طرف سے اجلاس میں بات چیت کا حصہ بنیں گے‘، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے کرکٹ بورڈز کے درمیان قریبی ہم آہنگی پائی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بی سی بی صدر اور پی سی بی حکام کے درمیان بیک ڈور مشاورت بھی متوقع ہے، جس میں خطے کی کرکٹ، مستقبل کے ٹورز، آئی سی سی ایونٹس اور انتظامی معاملات زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملاقات کے بعد امین الاسلام آج ہی ڈھاکہ واپس روانہ ہو جائیں گے۔
آئی سی سی کی جانب سے یہ ہنگامی اجلاس عالمی کرکٹ کو درپیش اہم اور حساس مسائل کے حل کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ’ابتدائی طور پر چند بورڈز کی شرکت طے تھی، تاہم میٹنگ کے دوران شریک بورڈز کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے‘، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملات کی نوعیت غیر معمولی ہے۔
کرکٹ حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ اجلاس میں شیڈولنگ، ایونٹس کی میزبانی، مالی معاملات اور بعض بورڈز کے درمیان اختلافات جیسے موضوعات زیرِ غور آ سکتے ہیں۔ آئی سی سی کی چھتری تلے ہونے والی یہ بات چیت مستقبل کے بڑے فیصلوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی سی بی صدر کا پاکستان آنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ جنوبی ایشیائی کرکٹ بورڈز اس مرحلے پر مشترکہ مؤقف اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ عالمی سطح پر کرکٹ کے انتظامی اور اسٹریٹجک فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
اس ہنگامی اجلاس پر کرکٹ شائقین اور مبصرین کی نظریں جمی ہوئی ہیں، کیونکہ اس کے نتائج عالمی کرکٹ کے منظرنامے پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔