امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ بیان نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے جس سے کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق میامی میں منعقدہ ایک سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کیوبا اگلا ہدف ہو سکتا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے ۔
اپنی تقریر کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایک مضبوط فوج تشکیل دی ہے، مگر بعض اوقات اسے استعمال کرنا پڑتا ہے اور اسی تناظر میں انہوں نے کیوبا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “ویسے، کیوبا اگلا ہے، مگر اس بات کو بھول جائیں”، جس نے صورتحال کو مزید مبہم بنا دیا۔
Over the past 27 days, the U.S. armed forces, most powerful in the world, have been annihilating Iran’s military capacity with force, precision, skill like the world has never seen. pic.twitter.com/2vk2McGBBP
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا پہلے ہی ایران اور وینزویلا میں اپنی کارروائیوں کو کامیاب قرار دے رہا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے کیوبا کے حوالے سے کسی واضح حکمت عملی یا آئندہ اقدامات کی تفصیل فراہم نہیں کی، جس سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا خیال ہے کہ کیوبا کی حکومت شدید معاشی دباؤ کے باعث کمزور ہو چکی ہے اور ممکنہ طور پر جلد ختم ہوسکتی ہے ، اس کے ساتھ ہی امریکا اور کیوبا کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات بھی جاری ہیں، جن کا مقصد ممکنہ تصادم سے بچنا ہے۔
دوسری جانب کیوبا کے صدر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی کو روکا جا سکے اور صورتحال کو پرامن رکھا جا سکے۔
معاشی ماہرین کے مطابق کیوبا اس وقت سنگین بحران سے دوچار ہے، خاص طور پر وینزویلا سے تیل کی سپلائی میں کمی کے بعد ملک میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان نے نہ صرف لاطینی امریکا بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اسے ممکنہ فوجی یا سیاسی مداخلت کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔