پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ حکومت ملک بھر کے بجلی صارفین کو اب تک 46 ارب 56 کروڑ روپے کا ریلیف فراہم کر چکی ہے، جس کا مقصد عوام کو مہنگائی اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے بچانا ہے۔
پاور ڈویژن پاکستان کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق بجلی کے نرخوں میں مجموعی طور پر 7.1 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو برس کے دوران صنعتی ٹیرف میں 14.44 روپے فی یونٹ کمی کی گئی، جس کے بعد صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمت 49.19 روپے سے کم ہو کر 34.75 روپے فی یونٹ تک آ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری اور فروری کے دوران صارفین کو 26 ارب 85 کروڑ روپے کا خالص ریلیف دیا گیا، جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت مزید 48 ارب روپے کی رعایت فراہم کی گئی، ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی مجموعی طور پر 21.18 ارب روپے کا ریلیف سامنے آیا۔
مزید بتایا گیا کہ جولائی سے فروری تک کے عرصے میں مجموعی طور پر 33 ارب 29 کروڑ روپے کا ریلیف دیا گیا، جس میں سے 13.28 ارب روپے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور 33.29 ارب روپے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے صارفین کو منتقل کیے گئے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو خود برداشت کیا، تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے اور بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافہ محدود رکھا جا سکے۔