چین کے معروف جیو پولیٹیکل تجزیہ کار پروفیسر جیانگ شوچین کی تیسری پیشگوئی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ جس میں انہوں نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کے ممکنہ نتائج کے بارے میں اظہارِ خیال کیا تھا۔
پروفیسر جیانگ شوچین نے 2024 میں تین بڑی پیشگوئیاں کی تھیں، جن میں سے پہلی دو درست ثابت ہو چکی ہیں۔ پہلی پیشگوئی یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدارتی انتخاب جیت کر امریکا کے صدر بنیں گے، جبکہ دوسری پیشگوئی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ شروع کریں گے۔
اب وہ اپنی تیسری پیشگوئی پر بھی قائم ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی اور ایران اس جنگ میں کامیاب ہوگا۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے امریکی عالمی بالادستی کو شدید دھچکا لگے گا اور اس کے بعد چین اور روس مضبوط عالمی طاقتوں کے طور پر ابھریں گے۔
واضح رہے کہ ان کی پہلی دو پیشگوئیاں درست ثابت ہونے کے باعث تیسری پیشگوئی امریکا کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اس جنگ میں شکست کھا سکتا ہے۔
پروفیسر جیانگ نے اس ہفتے “بریکننگ پوائنٹس” پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا،
“میری جنگ کے تجزیے کے مطابق میرا خیال ہے کہ ایران کو امریکا کے مقابلے میں بہت زیادہ فوائد حاصل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت یہ ایک ایسی جنگ ہے جو تھکن اور نقصان کے تبادلے پر مبنی ہے، اور ایرانی گزشتہ 20 برسوں سے اس جنگ کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا،
“ایرانیوں کے مذہب میں یہ ‘عظیم شیطان’ کے خلاف جنگ ہے۔ انہوں نے متعدد فوجی مشقیں کی ہیں۔ گزشتہ جون میں 12 دنوں کی جنگ ہوئی تھی جس میں ایرانیوں نے اسرائیلی اور امریکی حملہ آور صلاحیتوں کا تجزیہ کیا، اور اس کے بعد انہیں اس نئے حملے کی تیاری کے لیے آٹھ ماہ کا وقت بھی ملا۔”
پروفیسر جیانگ کے مطابق ایران کے پراکسی گروپس جن میں حوثی، حزب اللہ، حماس اور دیگر ملیشیائیں شامل ہیں، امریکی حکمتِ عملی کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور اب ان کے پاس ایسی حکمتِ عملی موجود ہے جس کے ذریعے امریکی طاقت کو کمزور اور بالآخر ختم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی دراصل “دنیا کی معیشت کے خلاف جنگ” لڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور صرف فوجی اڈوں ہی کو نہیں بلکہ ان اڈوں سے جڑے اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ممکنہ طور پر پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس (ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جو خلیجی ممالک میں زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں تازہ پانی کی فراہمی محدود ہے۔
ان کے مطابق یہ پلانٹس خلیجی ممالک میں تقریباً 60 فیصد پانی کی فراہمی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر تقریباً 50 ہزار ڈالر مالیت کا ایک ڈرون ریاض، سعودی عرب میں واقع پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو تباہ کر دے تو ایک کروڑ (10 ملین) آبادی والا شہر دو ہفتوں کے اندر پانی سے محروم ہو سکتا ہے۔
پروفیسر جیانگ نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔