ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری بیڑے ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریبی ذرائع اور عسکری حکام کے مطابق، یہ کارروائی جدید ترین اینٹی شپ میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے کی گئی ہے، جس کا مقصد خطے میں امریکی مداخلت کا جواب دینا ہے۔
ایرانی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے امریکی بحری بیڑے کی پوزیشن کا درست تعین کرنے کے بعد اسے نشانہ بنایا۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں درج ذیل دعوے کیے گئے ہیں۔
حملے میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا بیک وقت استعمال کیا گیا تاکہ بحری بیڑے کے دفاعی نظام کو الجھایا جا سکے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ میزائلوں نے اپنے اہداف کو کامیابی سے ہٹ کیا، جس سے بحری بیڑے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ ایران نے اسے اپنی سمندری حدود کے قریب بڑھتی ہوئی امریکی جارحیت کے خلاف ایک “دفاعی اور انتباہی” کارروائی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) اور سینٹرل کمانڈ نے تاحال اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کی ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر اسے ایرانی “پروپیگنڈا” قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بحیرہ عرب میں سیکیورٹی الرٹ کو انتہائی بلند کر دیا گیا ہے۔
امریکی بحریہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور ابراہم لنکن کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اگر ایران کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے، تو یہ دہائیوں بعد کسی عالمی طاقت کے بحری بیڑے پر ہونے والا سب سے بڑا براہِ راست حملہ ہوگا، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست اور وسیع پیمانے پر جنگ چھڑنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا خدشہ ہے اور خلیجی ممالک میں موجود تمام امریکی اڈوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔