فزیبلٹی نا مشاورت، سنگین ٹریفک مسائل سے دوچار پشاورمیں مزید دس ہزار الیکٹرک رکشے کیوں؟

فزیبلٹی نا مشاورت، سنگین ٹریفک مسائل سے دوچار پشاورمیں مزید دس ہزار الیکٹرک رکشے کیوں؟

پہلے سے ہزاروں غیررجسٹرڈ و غیرقانونی رکشوں کے باعث پشاورکے رہائشی ٹریفک کے سنگین قسم کے مسائل دوچار تھے کہ رہی سہی کسر خیبرپختونخوا حکومت نے بغیر کسی مشاورت اور فزیبلٹی رپورٹ کے مزید دس ہزار الیکٹرک رکشے، وہ بھی سبسڈی پر، دینے کا فیصلہ کرکے پوری کر لی۔

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ابھی اتنا عرصہ نہیں گزرا کہ سابق وزیر اعلی علی گنڈاپور کی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کوئی بھی منصوبہ جاری کرنے سے قبل شہر کی سڑکوں پر دوڑتے رکشوں کی اصل تعداد معلوم کی جائے جس کے بعد ایک نجی فرم نے باقاعدہ سروے بھی شروع کر دیا تھا۔

خیبرپختونخوا حکومت کے مطابق بینک آف خیبر کے زریعے دس ہزار الیکٹرک رکشے سبسڈی پر فراہم کیے جائیں گے۔ ایک رکشے کی قیمت 13 لاکھ؛ تین لاکھ روپے حکومت ادا کرے گی۔ یہ کل تین ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ باقی دس لاکھ روپے قسطوں میں رکشہ مالکان سے وصول کیے جائیں گے، اقساط جمع کرنے کی مدت چار سال رکھی گئی ہے۔

علاوہ ازیں محکمہ ٹرانسپورٹ نے مستحقین اور فراہمی کے طریقہ کار کے تعین پر مبنی بینک اف خیبر کو تین طرح کے پروپوزلز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ان میں سے ایک کی وزیر اعلی سے منظوری لی جائے۔

موجود دستاویزات کے مطابق یہ رکشے پشاور یونیورسٹی، یونیورسٹی ٹاؤن اور حیات آباد میں چلائے جائیں گے۔ تاہم حکومت کے پاس مستند اعداد و شمار موجود نہیں کہ پشاور میں اس وقت کتنے رکشے ہیں، ان میں سے کتنے رجسٹرڈ، کتنے غیررجسٹرڈ ہیں، یا پھر یہ کہ شہر میں رکشہ کی اصل ضرورت کتنی ہے؟

گنڈاپور کابینہ نے محولہ بالا فیصلہ اس لئے کیا تھا کیونکہ محکمہ ٹرانسپورٹ، ٹریفک پولیس اور محکمہ ایکسائز کے اعداد و شمار میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک محکمہ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ پشاور میں 35 ہزار رکشے ہیں، جبکہ دوسرے کے مطابق یہ تعداد ڈھائی لاکھ تک ہے۔ اسی وجہ سے کابینہ نے سروے کا فیصلہ کیا جس کے بعد محکمہ منصوبہ بندی و ترقی (پی اینڈ ڈی) نے باضابطہ طور پر ایک کنسلٹنٹ کو یہ ذمہ داری سونپی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی پرائیویٹ کمپنی کی سکرین ہیک، ہیکر نے غیر اخلاقی مواد چلا دیا، تحقیقات شروع

دوسری جانب موجودہ رکشوں کو الیکٹرک میں تبدیل کرنے اور نئے برقی رکشے درآمد کرنے کیلئے سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان 10 جون 2025 کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے گئے۔ اب تک چھ رکشوں کو الیکٹرک رکشوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔

محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی کی زیر صدارت اجلاس میں تجویز دی کہ محکمہ ٹرانسپورٹ اسی منصوبے کو صوبائی سطح پر لانچ کرے، تاہم اس وقت کے سیکرٹری ٹرانسپورٹ مسعود یونس نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سروے مکمل ہونے سے قبل کوئی بھی منصوبہ شروع نہ کیا جائے۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے بی آر ٹی روٹس پر ہر طرح کی پبلک ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جو اس سوال کو مزید تقویت دیتا ہے کہ کیا ایسے حالات میں پشاور کو دس ہزار الیکٹرک رکشوں کی کیا ضرورت ہے؟

ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ نے محکمہ ٹرانسپورٹ سے مشاورت کے بغیر جنوری 2026 میں احکامات جاری کیے کہ 21 دنوں کے اندر دس ہزار الیکٹرک رکشے تقسیم کیے جائیں تاہم نہ تو مذکورہ بالا تین علاقوں میں کوئی سروے کیا گیا نہ ہی یہ معلوم کرنے کی زحمت محسوس کی گئی کہ وہاں کتنے رکشوں کی ضرورت ہے۔

اسی طرح چارجنگ اسٹیشنز کے بنیادی انفراسٹرکچر سے متعلق کسی قسم کی فزیبلٹی اسٹڈی ہوئی نہ ہی کسی طرح کی مشاورت ضروری سمجھی گئی، اور بس نہایت عجلت میں ”دس ہزار الیکٹرک رکشے لائے اور فراہم کئے جائیں” کا فرمان جاری کیا گیا۔

اس بارے میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ زبیر خان کا مؤقف جاننے کے لیے انہیں سوالات بھیجے گئے لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *