اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے کمرشل بینکوں کو صارفین کو بھیجے جانے والے ایس ایم ایس پر سروس چارجز وصول کرنے سے روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے، جسے بینک صارفین کے لیے ایک بڑی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس سروس چارجز وصول کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صارفین سے بلاجواز فیس وصول کی جا رہی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے گورنر اسٹیٹ بینک سے استفسار کیا کہ آخر یہ کون سا طریقہ ہے کہ بینک اپنی ہی فراہم کردہ سہولت پر صارفین سے رقم وصول کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بینکوں نے ایس ایم ایس سروس چارجز کے نام پر اربوں روپے کما لیے ہیں، حالانکہ یہ سہولت بینک اپنی ہی کسٹمر سروس کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے موقف اختیار کیا کہ بینک یہ سروس صارفین کی رضامندی سے فراہم کرتے ہیں اور جو صارف ایس ایم ایس الرٹس کی سہولت لیتا ہے، اسی سے چارج وصول کیا جاتا ہے۔ تاہم اس پر چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ گورنر اسٹیٹ بینک ہمیشہ نجی بینکوں کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے مزید سوال اٹھایا کہ ایف بی آر بھی صارفین کو پیغامات بھیجتا ہے، کیا وہ اس کے چارجز وصول کرتا ہے؟ اس پر چیئرمین ایف بی آر نے واضح طور پر کہا کہ بینکوں کا صارفین سے ایس ایم ایس چارجز لینا زیادتی کے مترادف ہے۔
قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بینک فی ایس ایم ایس 0.54 سے 0.89 روپے تک چارج وصول کرتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی اضافی فیس نہیں لی جاتی۔ اس کے باوجود کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ صارفین کو اس مد میں مزید بوجھ برداشت نہیں کرنا چاہیے اور بینکوں کو یہ چارجز ختم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
یہ فیصلہ عام بینک صارفین کے لیے اہم ریلیف سمجھا جا رہا ہے، جس سے لاکھوں اکاؤنٹ ہولڈرز کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔