ایران امریکا سیزفائرکے بعد روس یوکرین میں بھی عارضی جنگ بندی

ایران امریکا سیزفائرکے بعد روس یوکرین میں بھی عارضی جنگ بندی

امریکا ایران سیزفائر کے بعد عالمی سطح پر ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے پاکستان سمیت خطے میں بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے، جسے امن کی ایک اہم مگر وقتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے

ولادیمیر پیوٹن نے آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر یکطرفہ طور پر 32 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مذہبی تہوار کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لڑائی میں وقفہ دینا بتایا جا رہا ہے۔دوسری جانب وولودیمیر زیلنسکی نے بھی اس عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ اور حملوں میں وقتی کمی کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران،امریکا جنگ بندی پر عالمی رہنماؤں کا مشترکہ اعلامیہ، پاکستان کی تعریف

یہ پہلی بار نہیں کہ ایسٹر کے موقع پر اس نوعیت کی پیش رفت سامنے آئی ہو۔ گزشتہ سال بھی مذہبی تہوار کے دوران تقریباً 30 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی کی گئی تھی، تاہم اس دوران دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے تھے۔

عالمی مبصرین کے مطابق اس بار بھی اگرچہ جنگ بندی کا اعلان مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، لیکن اصل امتحان اس بات کا ہوگا کہ زمینی سطح پر دونوں فریق اس پر کس حد تک عملدرآمد کرتے ہیں۔یہ عارضی وقفہ جہاں ایک طرف امن کی جھلک دکھا رہا ہے، وہیں دوسری طرف یہ سوال بھی چھوڑ گیا ہے کہ کیا یہ پیش رفت مستقل امن کی طرف کوئی راستہ کھول سکتی ہے یا یہ صرف ایک وقتی خاموشی ثابت ہوگی

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *