ٹرمپ کا تہران میں نئی قیادت پر دلچسپ بیان: “ایران میں ‘رجیم چینج’ ہو چکا ہے”

ٹرمپ کا تہران میں نئی قیادت پر دلچسپ بیان: “ایران میں ‘رجیم چینج’ ہو چکا ہے”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی موجودہ صورتحال اور وہاں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے حوالے سےکہا ہے کہ ایران میں اب ایک ایسی نئی قیادت سامنے آئی ہے جسے باقاعدہ “رجیم چینج” (نظام کی تبدیلی) قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ حالیہ امریکی آپریشنز کے نتیجے میں وہ تمام قیادت ختم ہو چکی ہے جو مسائل پیدا کرنے کا باعث تھی۔

تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایران کی عسکری صلاحیتیں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔ ان کے بیان کے ٹرمپ کے بقول ایران کے پاس اب نہ تو کوئی مضبوط بحریہ رہی ہے اور نہ ہی فضائیہ ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابقہ پوری قیادت جو مزاحمت کر رہی تھی، اسے ختم کر دیا گیا ہے اور اب ایران میں “بات کرنے کے لیے بھی کوئی نہیں بچا”۔ امریکی صدر نے صراحت کی کہ اس وقت ایران میں امریکی فورسز کھلے عام کارروائیاں کر رہی ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی موجود نہیں۔

عسکری دباؤ کے باوجود صدر ٹرمپ نے سفارتی دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ دیا ہے اور بتایا ہے کہ پسِ پردہ مذاکرات کا عمل جاری ہے: ٹرمپ کا واضح موقف ہے کہ تہران کے پاس ایٹمی صلاحیت اور یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اور ایران نے جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس اہم سفارتی عمل میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس براہِ راست شامل ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق ایران میں جو نیا گروپ آیا ہے وہ “ڈیل” چاہتا ہے اور امریکہ اب “درست افراد” سے بات چیت کر رہا ہے۔

جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران پر بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا، تو انہوں نے نپے تلے انداز میں جواب دیا کہ فی الحال تہران “سمجھداری” سے بات کر رہا ہے۔ ان کا سارا زور اس بات پر ہے کہ مذاکرات وہیں سے شروع ہوں گے جہاں ایران اپنی ایٹمی صلاحیت سے مکمل دستبرداری کا اعلان کرے۔

دوسری جانب ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان ایران پر انتہائی نفسیاتی اور عسکری دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ تہران کو اپنی شرائط پر نئی عالمی ڈیل کے لیے مجبور کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: ایرانی کسی بھی قیمت پر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *