ایران جنگ، عالمی معیشت کی تباہی کا آغاز یا کچھ اور؟ آئی ایم ایف کی ہوشربا رپورٹ جاری

ایران جنگ، عالمی معیشت کی تباہی کا آغاز یا کچھ اور؟ آئی ایم ایف کی ہوشربا رپورٹ جاری

عالمی مالیاتی ادارے ’آئی ایم ایف‘ نے ایران میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین ’الارم کلک‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس تنازع کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

معیشتوں کو شدید دھچکا

عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ نے جہاں براہِ راست متاثرہ اور فرنٹ لائن ممالک کی معیشت کو اپاہج کر دیا ہے، وہیں یہ ان ممالک کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے جو حالیہ عالمی بحرانوں کے بعد ابھی بحالی کے ابتدائی مرحلے میں تھے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف نے پٹرول کی قیمت میں اضافے کا بڑا مطالبہ کر دیا،اب پٹرول کتنا مہنگا ہوگا؟

رپورٹ کے مطابق سپلائی چین کی معطلی اور تجارتی راستوں میں رکاوٹ کے باعث عالمی جی ڈی پی کو 2 فیصد سے 3فیصد تک کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

تیل کی قیمتیں اور مہنگائی کا طوفان

آئی ایم ایف کے چیف ماہرِ معیشت نے اپنے خصوصی مضمون میں لکھا ہے کہ ایران جنگ عالمی معیشت کے لیے ایک ‘بڑے جھٹکے’ سے کم نہیں ہے۔

 انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ کشیدگی طویل ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کی شرح میں 10فیصد سے 15 فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

مستقبل کے تاریک بادل

مضمون میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ اس جنگ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے، جس سے عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’مستقبل کے معاشی حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہو سکتے ہیں جتنے کہ بظاہر نظر آ رہے ہیں‘۔ عالمی ادارے نے زور دیا ہے کہ اگر فوری طور پر سفارتی حل تلاش نہ کیا گیا تو دنیا کو ایک ایسی معاشی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے نکلنے میں عشرے لگ جائیں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *