پیٹرولیم ڈیلرز نے حکومت کے سامنے تین مطالبات رکھ دئیے ہیں اور اگر یہ مطالبات منظور نہ ہوئے تو 26 مارچ سے ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس بند کر د ئیے جائیں گے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سینئر وائس چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز طارق حسن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کے مطالبات یہ ہیں کہ 55 روپے فی لیٹر اضافے کی رقم کا آڈٹ کروایا جائے، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن 8 فیصد تک بڑھایا جائے۔
طارق حسن نے کہا کہ وزیرِ پیٹرولیم نے پہلے مارجن بڑھانے کی یقین دہانی کروائی تھی پاکستان میں 12 سے 14 ہزار پیٹرول پمپس موجود ہیں اور ڈیلرز ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
اوگرا نے گزشتہ سال 1.68 روپے فی لیٹر مارجن بڑھانے کی سمری حکومت کو بھیجی لیکن وزیراعظم نے اسے ڈیجیٹائزیشن کی شرط پر مسترد کر دیاانہوں نے بتایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس بڑی مقدار میں ذخیرہ موجود ہے موجودہ قیمتوں پر ڈیلرز کا مارجن صرف 2.59 فیصد یعنی 8 روپے 64 پیسے ہے۔
پاکستان میں 42 آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہیں جن میں کئی جعلی ہیں اور کئی پیٹرول پمپس خشک ہو رہے ہیں کیونکہ کمپنیاں ڈیلرز کو پیٹرول فراہم نہیں کر رہی ہیں،طارق حسن نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی ذخیرہ اندوزی کے لیے حکومت نے معاونت کی ہے۔
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی لیٹر اضافے کا خدشہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رمضان میں عوام کو پریشان نہیں کرنا چاہتے لیکن موجودہ صورت حال میں قیمتوں اور لیوی میں اضافہ قابل قبول نہیں۔