مشرقِ وسطیٰ میں دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی ایک اہم معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہاز پر ٹیکس ناٖفذ کرنے کا نیا فارمولہ طے کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تیل بردار جہازوں پر ایک ڈالر فی بیرل کے حساب سے نیا ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ٹیکس ممکنہ طور پر “سیکیورٹی اور انتظامی چارجز” کے طور پر لگایا گیا ہے تاکہ جنگ بندی کے ان دو ہفتوں کے دوران بحری جہازوں کو فراہم کیے جانے والے محفوظ راستے اور نگرانی کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ اگرچہ یہ ٹیکس ایک ڈالر فی بیرل ہے، لیکن روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل کے باعث اس سے حاصل ہونے والی رقم اربوں ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافے کا امکان ہے، تاہم سپلائی لائن بحال ہونے کی خوشی میں اسٹاک مارکیٹوں پر اس کا منفی اثر نہیں پڑے گا۔ ماہرین اسے ایک “عارضی انتظام” کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے لیے مالی وسائل اور سیکیورٹی کی ضمانت فراہم کی جا سکے۔
پاکستانی حکام اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کی پہلے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ کسی بھی طرح تجارتی راستہ کھلا رہے تاکہ عالمی توانائی کا بحران پیدا نہ ہو۔ اس ٹیکس کے باوجود، آبنائے ہرمز کا کھلنا عالمی معیشت کے لیے ایک بڑی سانس ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں: امریکا امن مذاکرات میں شریک ہوگا، جے ڈی وینس، وٹکوف اور کشنر اسلام آباد جائیں گے، وائٹ ہاؤس

