امریکی سفارتخانے کے آفیشل بیان میں کہا گیا کہ اگر امریکی قونصلر افسران کو یقین ہو جائے کہ درخواست دہندہ کا بنیادی مقصد بچے کو امریکہ میں پیدا کرنا ہے تاکہ وہ امریکی شہریت حاصل کر سکے تو سیاحتی ویزا درخواست مسترد کر دی جائے گی۔ یہ اجازت شدہ عمل نہیں ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاحتی ویزے صرف اس مقصد کے لیے جاری نہیں کیے جاتے۔ اگر ویزا افسر کو یہ شبہ ہو کہ درخواست دہندہ کا اصل مقصد بچے کی پیدائش ہے تو درخواست فوری طور پر مسترد ہو سکتی ہے۔
یہ ضابطہ تقریبا 2020 سے نافذ ہے، لیکن حالیہ برسوں میں امریکی سفارتخانوں نے، جیسے بھارت اور نائیجیریا میں، سوشل میڈیا اور عوامی اطلاع کے ذریعے اس کا دوبارہ ذکر کیا ہے تاکہ مختصر مدت کے سیاحتی ویزوں کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لوگ اکثر امریکہ میں بچے کی پیدائش کے لیے سیاحتی ویزے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے بعد ویزا افسران کی جانب سے مسترد کیے جانے کی شرح بڑھ رہی