افغان طالبان رجیم میں ایک سال میں تقریبا 12 سو افراد کو سرعام کوڑے مارنے کا انکشاف

افغان طالبان رجیم میں ایک سال میں تقریبا 12 سو افراد کو سرعام کوڑے مارنے کا انکشاف

افغانستان میں طالبان رجیم کے دوران گزشتہ ایک سال میں سخت سزاؤں کے نفاذ سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

آمو ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کم از کم 1186 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے، جبکہ 6 افراد کو سزائے موت دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے تمام صوبوں، بشمول کابل، قندھار اور ہرات، میں جسمانی سزاؤں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق کوڑے مارنے کی اصل تعداد رپورٹ میں بتائی گئی تعداد سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ صرف 8 ماہ کے دوران تقریباً 100 خواتین کو بھی سرعام کوڑے مارے گئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان سزاؤں کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت، افغانستان اور اسرائیل کا پاکستان مخالف خفیہ منصوبہ بے نقاب ،سابق بھارتی کرنل کے ہوشربا انکشافات

رپورٹ کے مطابق خوست، بادغیس، فراہ اور نیمروز کے اسٹیڈیمز میں ہزاروں افراد کے سامنے سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا۔ اس کے علاوہ نظام کے خلاف مبینہ ’پروپیگنڈا‘ اور قیادت کی توہین کے الزامات پر بھی کوڑوں اور قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

مزید برآں، نئے افغان پینل کوڈ کے نفاذ نے عالمی سطح پر قانونی عمل کی شفافیت اور ملزمان کو دفاع کا حق نہ ملنے سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سخت سزاؤں کے اس تسلسل سے افغانستان کی عالمی سطح پر تنہائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *