عالم دین مولانا عبدالغفور مدنی (مہتمم جامعہ عربیہ انوار القرآن کوٹری) نے فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے پر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی قیادت کو اتحاد، تحمل اور ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے اور قومی یکجہتی اور سلامتی کے لیے پاک فوج اور پاکستان کی کوششوں میں مکمل تعاون کرنا چاہیے۔
ان کاکہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا تو یہ حملہ تو امریکہ نے اور اسرائیل نے ایران پر کیا لیکن کچھ ہمارے ملک پاکستان میں اہل تشیع علما نے فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی ، ہمارے ملک کے اندر گڑبڑ کرنے کی کوشش کی بالخصوص کراچی اور گلگت کے اندر نفرت پھیلائی۔
ان کاکہنا تھا کہ یہ لوگ آج بھی پھر دھمکیاں دے رہے ہیں بالخصوص راجہ ناصر عباس اور شہنشاہ نقوی یہ پھر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہم انتشار پھیلائیں گے ، اگر ایران کے ساتھ یوں ہوا تو ہم ملک پاکستان کے ساتھ یوں کریں گے ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ میں اپنے قومی سلامتی کے اداروں سے اپنے افواج پاکستان سے درخواست کروں گا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں اور پوری قوم آپ کے ساتھ ہے ، پوری قوم اپ کے پشت پر کھڑی ہے، ایسے افراد کو نکیل ڈالی جائے اور ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے ۔
مولانا کا کہناتھا کہ میں اس معاملے میں اپنے ملک کے ساتھ ہوں اپنی افواج کے ساتھ ہوں۔
جے یو آئی (ف) دادو کےضلعی امیر مولانا موسیٰ بابر نے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے معاشرے میں تقسیم اور تفریق کو ہوا دینے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت قوم کو تفرقہ انگیز بیانیوں کی نہیں بلکہ آپسی اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔
مولانا موسیٰ بابر کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے تمام طبقات کو متحد ہو کر انتشار پھیلانے والی باتوں کو رد کرنا چاہیے اور ریاست کے استحکام و مضبوطی کو یقینی بنانے کے لیے پاک فوج اور پاکستان کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کرنی چاہیے۔