امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو سے امریکا کی ممکنہ علیحدگی کا عندیہ دے کر عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے
اپنے حالیہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر نیٹو کے رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اپنا حصہ بڑھانے میں ناکام رہے تو امریکا اس اتحاد میں اپنی شمولیت پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے ،ٹرمپ کا کہنا تھا امریکا طویل عرصے سے نیٹو کے مالی بوجھ کا بڑا حصہ اٹھا رہا ہے، جو اب قابلِ قبول نہیں ہے ۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد یورپی اتحادی ممالک میں بے چینی پائی جا رہی ہے، کیونکہ نیٹو کو دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی سلامتی کے لیے ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد یورپی اتحادی ممالک میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کے حکام نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے نیٹو کو عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے، یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپ کے درمیان دفاعی شراکت خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔
یورپی یونین کے عہدیداروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رکن ممالک دفاعی اخراجات میں بتدریج اضافہ کر رہے ہیں اور نیٹو کے اندر ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ بعض یورپی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی ممکنہ علیحدگی نہ صرف یورپ بلکہ عالمی سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کر سکتی ہے۔
اگر امریکا نیٹو سے الگ ہوتا ہے تو اس کے اثرات یورپ کی دفاعی حکمت عملی، روس کے ساتھ طاقت کے توازن، اور عالمی سلامتی پر گہرے مرتب ہوں گےاگر امریکا اس اتحاد سے الگ ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف یورپ بلکہ عالمی سکیورٹی نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں ٹرمپ کا یہ مؤقف نیا نہیں، بلکہ وہ اپنے گزشتہ دورِ صدارت میں بھی نیٹو پر تنقید کرتے رہے ہیں اور رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔