ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امریکا، ایران مذاکرات کے حوالے سے اہم تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکی وفد کے ساتھ اہم موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، جوہری مسئلہ، جنگی ہرجانہ، پابندیوں کے خاتمے اور خطے کے خلاف جنگ کے مکمل خاتمے جیسے حساس موضوعات زیرِ بحث آئے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران اکثر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا، تاہم 2 سے 3 نکات پر اختلاف برقرار ہے جس کے لیے پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مشاورت جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسائل اور حالات کی پیچیدگی کے باعث ایک ہی نشست میں کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے، تاہم اب تک کی پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ’کچھ نئے موضوعات بھی ان مذاکرات میں شامل کیے گئے ہیں اور ہم سفارتی محاذ پر اپنے حقوق اور مفادات کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے‘۔
ایرانی ترجمان نے حکومتِ پاکستان اور یہاں کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میزبان پاکستان نے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں انتہائی مثبت اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارت کاری سمیت تمام ذرائع استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن سفارتی عمل کی حتمی کامیابی کا انحصار دوسرے فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے۔ 12 اپریل 2026 کو جاری ہونے والے اس بیان نے عالمی سطح پر ان مذاکرات کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
ایران کا یہ بیان صدر ٹرمپ کے ’فتح‘ والے دعوے کے جواب میں ایک متوازن سفارتی ردعمل معلوم ہوتا ہے۔ جہاں امریکا طاقت کی بات کر رہا ہے، وہاں ایران نے ’جنگی ہرجانے‘ اور ’پابندیوں کے خاتمے‘ کو میز پر رکھ کر اپنی شرائط واضح کر دیں۔
پاکستان کی میزبانی کی تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اسلام آباد کو ایک قابلِ اعتماد ثالث سمجھتا ہے۔ 2 سے 3 نکات پر اختلاف’ کا ذکر ظاہر کرتا ہے کہ خاص طور پر سیکیورٹی ضمانتوں اور جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کو جاری بھی رکھا جا سکتا ہے۔