ایران کے حملوں میں 500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کا دعویٰ

ایران کے حملوں میں 500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کا دعویٰ

ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے ایک انتہائی لرزہ خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوابی حملوں میں اب تک 500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جو کہ خطے میں جاری کشیدگی کی تاریخ کا ایک بڑا جانی نقصان ہو سکتا ہے۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کی خوشنودی کی خاطر امریکی عوام کو ایک غیر ضروری اور ناجائز جنگ کی آگ میں جھونک دیا گیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ یہ فیصلہ کرے کہ اس کے لیے اپنے عوام کا مفاد مقدم ہے یا اسرائیل کی حمایت۔

علی لاریجانی نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اس عظیم نقصان کی قیمت امریکہ کو بہت مہنگی پڑے گی اور ایران اپنے انتقام سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

دوسری جانب امریکی عسکری قیادت نے بھی اس بحران کی سنگینی کا اعتراف کیا ہے جہاں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے شاہد ڈرونز امریکی فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک ایسا چیلنج بن چکے ہیں جس کا مکمل توڑ فی الحال موجود نہیں ہے۔

ان ڈرونز کی کم رفتار اور سطح زمین سے انتہائی قریب اڑنے کی صلاحیت انہیں روایتی ریڈارز اور اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹمز کی نظروں سے اوجھل رکھتی ہے، جس کی وجہ سے امریکی حکام کے لیے تمام خطرات کو فضا میں ہی ناکام بنانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

مزید جانیئے:ایران کا امریکا کو دو ٹوک جواب، مذاکرات سے صاف انکار

اگرچہ بعض خلیجی اتحادی ممالک بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ کر کے دفاع کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم واشنگٹن کے اندرونی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ ڈرون ٹیکنالوجی جنگ کا نقشہ تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *