خیبرپختونخوا حکومت نے صوبہ بھر میں اراضی کو تحفظ دینے اور لینڈ گریبنگ کی روک تھام کیلئے “خیبرپختونخوا تحفظِ ملکیتِ غیرمنقولہ جائیداد” کے نام سے بل کا مسودہ تیارکرلیا۔ نیا قانون زمین سے متعلق تنازعات کو سول عدالتوں کے بجائے نئے متبادل فورمز کے ذریعے حل کرنے کی تجویز دیتا ہے۔
مسودے کے مطابق پہلے مرحلے میں زمین سے متعلق کیس ڈسٹرکٹ ریزلوشن کمیٹی (ڈی آر سی) جس کا سربراہ ڈپٹی کمشنرہوتا ہے، کو بھیجا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں کیس ایک خصوصی ٹریبونل کے سامنے پیش کیا جائے گا جو پولیس کو ایف آئی آر اندراج کا حکم دینے کا بھی مجاز ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں زمینوں کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے کے ساتھ ہی اراضی قبضہ کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا، جبکہ قبضہ گروپ خاص طور پر شہری علاقوں میں متحرک ہیں، قبضے کے بعد بیشتر کیسز میں اصل مالکان اپنی زمین کا قبضہ واپس لینے میں ناکام رہتے ہیں اور بالآخر مجبور ہو کر وہی زمین انہی افراد یا گروہوں کو فروخت کر دیتے ہیں جنہوں نے اس پر غیرقانونی قبضہ کیا ہوتا ہے۔
یہ مجبوری کے سودے عموماً مارکیٹ ریٹ سے کہیں کم قیمت پر طے پاتے ہیں، بعض اوقات آدھی قیمت سے بھی کم، جس کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں کو شدید مالی اور ذہنی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
متاثرہ شہری کی کہانی
ان متاثرین میں سے ایک پشاور کے مضافاتی علاقے خدرخیل کے رہائشی 42 سالہ عالمزیب خان بھی ہیں۔ ان کی آبائی زمین پر ان کے دور کے رشتہ داروں نے قبضہ کر لیا جس کے بعد وہ برسوں تک مہنگی اور تھکا دینے والی عدالتی کارروائی میں الجھے رہے۔
عدالت نے بالآخر ان کے حق میں فیصلہ دیا مگر یہ فیصلہ عملی طور پر بے اثر ثابت ہوا کیونکہ وہ اپنی زمین کا قبضہ پھر بھی حاصل نہ کر سکے۔ عالمزیب خان کے مطابق بارہا درخواستوں کے باوجود پولیس نے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد میں کسی قسم کی سنجیدگی نہیں دکھائی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس قبضہ دلوا بھی دیتی تو اسے برقرار رکھنا ناممکن تھا کیونکہ بااثر رشتہ دار دوبارہ زمین پر قابض ہو جاتے۔ تشدد کا خطرہ مسلسل موجود رہنے کے باعث، اور خون خرابے سے بچنے کے لیے بالآخر عالمزیب نے بھی زمین موجودہ قابضین کو کم قیمت پر فروخت کر دی۔
پنجاب طرز پرنیا قانون
خیبرپختونخوا کا نیا مجوزہ قانون غالباً پنجاب کی پیروی یا ایک طرح سے مسابقت میں تیار کیا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) ایکٹ 2024 کے تحت الگ اتھارٹی قائم کرکے وسیع اختیارات دئیے گئے۔
پیرا کے تحت پنجاب کی 154 تحصیلوں میں انفورسمنٹ اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ ہے جن میں سے اب تک 101 اسٹیشن فعال ہو چکے ہیں جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔ پیرا کو ایف آئی آر درج کرنے، املاک سیل کرنے اور تلاشی لینے جیسے اختیارات حاصل ہیں۔
پیرا کے ڈائریکٹر جنرل کیپٹن (ر) فرخ عتیق کے مطابق جب بھی حکومت کسی نئے قانون کے تحت نفاذ کے اختیارات دیتی ہے تو اسے باقاعدہ طور پر ایکٹ کے شیڈول میں شامل کیا جاتا ہے۔ اب تک آٹھ مختلف قوانین، جن میں پانچ ریونیو سے متعلق ہیں، پیرا کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔
ادارے میں اس وقت 4 ہزار اہلکار تعینات ہیں جبکہ منظور شدہ نفری 7,800 ہے۔ ان میں سے 3,800 آسامیاں تاحال خالی ہیں۔ پیرا اب تک 87.5 ایکڑ زمین لینڈ مافیا سے واگزار کرا چکی ہے اور غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف بھی کارروائی کی مجاز ہے۔
خیبرپختونخوا کا مجوزہ نظام
مجوزہ قانون کے تحت خیبرپختونخوا میں ڈی آر سی اور ایک خصوصی ٹریبونل قائم کیا جائے گا، تاہم پنجاب کے برعکس اس قانون میں تحصیل سطح پر انفورسمنٹ اسٹیشنز یا پیرا جیسی الگ فورس کے قیام کی کوئی تجویز شامل نہیں۔
ڈی آر سی میں ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، ایس ڈی پی او، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر شامل ہوں گے۔
انتظامی صلاحیت پر سوالات
سینئر سرکاری افسران کے مطابق یہ نظام ضلعی انتظامیہ پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ ایک ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ پہلے سے موجود بھاری ذمہ داریوں کے باعث نئے اختیارات کے ساتھ بھی مؤثر نتائج دینے میں ناکامی کا خدشہ ہے۔
مسودے کے تحت ڈی آر سی کو تین سے چھ ماہ میں فیصلے کرنے ہوں گے اور اسے سول کورٹ کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے۔ جھوٹی شکایت درج کروانے پر ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، جب کوئی کیس ڈی آر سی یا ٹریبونل میں زیر سماعت ہوگا تو اس دوران کوئی بھی عدالت حکمِ امتناعی جاری کرنے کی مجاز ہو گی نہ ہی متنازعہ زمین منتقل یا بطور تحفہ دی جا سکے گی۔
ٹریبونل کے اختیارات
قانون کے تحت ضلعی سطح پر قائم ٹریبونل کو سیشن کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے۔ ٹریبونل کے ارکان کا تقرر وزیر اعلیٰ، چیف جسٹس ہائی کورٹ یا چیف سیکرٹری تین سالہ مدت کے لیے کریں گے۔
ریٹائرڈ گریڈ 20 افسران، سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز یا ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججز ٹریبونل کی رکنیت کے اہل ہوں گے۔ ٹریبونل کو گرفتاری اور زمین واگزار کرانے کے اختیارات حاصل ہوں گے، تاہم ایف آئی آر کے اندراج، گرفتاریوں اور فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے پولیس کی خدمات لی جائیگی۔
اگر غیرقانونی قبضے کے دوران تعمیرات کی گئی ہوں تو ٹریبونل زمین سے حاصل ہونے والے تمام مالی فوائد کی وصولی کا حکم بھی دے سکے گا۔
آئینی خدشات
پشاور کے سینئر وکیل شبیر حسین گگیانی کے مطابق یہ مجوزہ نظام آئینی اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لینڈ گریبنگ کے خلاف موجودہ قوانین پر ہی مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا ایسے میں وسیع اختیارات رکھنے والے ٹریبونلز کا قیام عدالتی اختیارات ایگزیکٹو کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔
ان کے مطابق روایتی عدالتیں نسبتاً زیادہ محفوظ فورم ہیں جبکہ ٹریبونلز سیاسی اثر و رسوخ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مسئلے کی جڑ
قانونی ماہر اور ریٹائرڈ سول جج منصف سید کے مطابق اصل مسئلہ زمینوں کے وہ فرسودہ ریونیو ریکارڈ ہیں جو 1929 سے چلے آ رہے ہیں۔ قانون کے تحت ہر چار سال بعد جمع بندی کے ذریعے ریکارڈ اپ ڈیٹ ہونا چاہیے مگر عملی طور پر اس پر عملددرامد نہیں ہوتا ہے۔
اکثر زمینیں خاندانی طور پر غیررسمی انداز میں تقسیم کر دی جاتی ہیں، مگر ریونیو ریکارڈ میں مشترکہ ملکیت برقرار رہتی ہے۔ لینڈ مافیا اسی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جزوی انتقال خرید کر دیگر شریک مالکان کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے۔ باقاعدہ تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے حدبندیاں ریکارڈ میں شامل نہیں ہوتیں اور صرف خسرہ نمبر ہی درج رہتے ہیں۔
گرداور صداقت اللہ کے مطابق پٹواریوں پر کام کا شدید دباؤ ہے۔ انہیں روزانہ درجنوں سائلین کو خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عدالتی پیشیوں اور دیگر سرکاری فرائض، بشمول پولیو مہم، انجام دینا پڑتے ہیں جس سے بروقت کام ممکن نہیں رہتا۔
سرکاری زمین بھی غیرمحفوظ
نجی زمین کے ساتھ ساتھ سرکاری اراضی بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ صوبائی کوآپریٹو بینک کی بندش کے بعد مختلف اضلاع میں تقریباً 2 ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ ہو چکا ہے۔ قبضہ شدہ 70 فیصد زمین کی نشاندہی تک نہیں ہوئی ہے۔
اسی طرح اوقاف ڈیپارٹمنٹ کی ہزاروں ایکڑ زمین پر مختلف قبضہ گروپس قابض ہیں۔
ایک سنیئر افیسر کے مطابق جب تک نفاذی اختیارات واضح، خودمختار اور مؤثر اداروں کو منتقل نہیں کیے جاتے، خیبرپختونخوا میں لینڈ گریبنگ کے خلاف کوئی بھی نیا قانون محض کاغذی کارروائی ثابت ہو سکتا ہے۔ پولیس جن کی کرٹیبلیٹی پہلے سے متاثر ہے اور ان کی موجودگی میں اراضی پر قبضے ہورہے ہیں تو نیا قانون بناکر پھر بھی پولیس کی خدمات لی جائیگی۔