پنجاب میں تھانہ کلچر کی تبدیلی، وزیر اعلی پنجاب کا “کمیونٹی پولیسنگ” کے لیے نمایاں اقدامات

پنجاب میں تھانہ کلچر کی تبدیلی، وزیر اعلی پنجاب کا “کمیونٹی پولیسنگ” کے لیے نمایاں اقدامات

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں “کمیونٹی پولیسنگ” کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ایک بڑا انقلابی فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے صوبے میں تھانہ کلچر کی تبدیلی اور کمیونٹی پولیسنگ کے لیئے پولیس کے رویے کو بہتر بنانے اور پبلک ڈیلنگ میں شفافیت لانے کے لیے تھانوں اور ناکوں پر تعینات تمام افسران و اہلکاروں کو باڈی کیمروں سے لیس کرنے کا ٹاسک آئی جی پنجاب کو دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کے درمیان ہونے والی پہلی اصلاحاتی میٹنگ میں طے پایا کہ اب پولیس کا ہر وہ اہلکار جو عوام سے مخاطب ہوگا، وہ جوابدہ ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت تھانوں میں تعینات پولیس اہلکار، محرر اور ایس ایچ اوز (SHOs) کے لیے باڈی کیمز لازمی ہوں گے۔ اس کیساتھ ساتھ ناکوں پر نگرانی اور سڑکوں اور ناکوں پر تعینات تمام اہلکار بھی باڈی کیمز زیب تن کریں گے۔

تمام کیمرے سیف سٹی کے مرکزی سسٹم سے منسلک ہوں گے، جس سے ہر سرگرمی کی لائیو مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے پیش کردہ منصوبے پر وزیراعلیٰ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈیڑھ ارب روپے کے فنڈز فراہم کرنے کے احکامات جاری کیئے ہیں اور14 ہزار کیمروں کی خریداری کے حؤالے سے پنجاب بھر کے تھانوں کے لیے ابتدائی طور پر 14 ہزار جدید باڈی کیمز خریدنے کی منظوری دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا وفاقی پولیس کی استعداد کار بڑھانے کیلئے پاک فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ

اس حوالے سے ان اقدامات کے فوری نفاذ کے لیئے فنڈز کے اجرا کے ساتھ ہی خریداری کا عمل شروع کر دیا جائے گا تاکہ جلد از جلد یہ نظام فعال ہو سکے۔

اس جدید نظام سے نہ صرف پولیس اہلکاروں کے رویے میں مثبت تبدیلی آئے گی بلکہ بدعنوانی کا خاتمہ، رشوت ستانی اور ناجائز مطالبات کا راستہ بند ہوگا۔ ان اقدامات کی مدد سے حقائق کی جانچ کے لیئے شہریوں کی شکایات کا فیصلہ اب زبانی نہیں بلکہ کیمرے کی فوٹیج دیکھ کر کیا جائے گا۔ دوسری جانب یہ کیمرے اہلکاروں کو جھوٹے الزامات سے بھی بچائیں گے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *