پنجاب حکومت کا سرکاری گاڑیوں کے لیے ‘نئے ضابطہ اخلاق’ کا اعلان، کفایت شعاری کی نئی مثال
لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر انتظامیہ نے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کے حوالے سے نئی اور سخت گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کا بنیادی مقصد پیٹرول اور مرمت کے اخراجات میں کمی لا کر بچت شدہ فنڈز کو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرنا ہے۔
نئی ہدایات کے نمایاں نکات
حکومت نے تمام محکموں کو درج ذیل پروٹوکولز پر عمل درآمد کا حکم دیا ہے:
غیر متعلقہ استعمال پر پابندی: سرکاری گاڑیاں اب صرف اور صرف سرکاری ڈیوٹی اور دفتری امور کے لیے استعمال کی جا سکیں گی۔ نجی یا خاندانی استعمال پر سخت پابندی ہوگی۔
لاگ بک کی لازمی دیکھ بھال: ہر گاڑی کی مائلیج اور پیٹرول کے اخراجات کا ریکارڈ (Log Book) مکمل رکھنا ہوگا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
فیول کوٹہ کی حد: افسران کے لیے ماہانہ پیٹرول کے کوٹہ پر نظر ثانی کی گئی ہے تاکہ اضافی اخراجات کو کنٹرول کیا جا سکے۔
گاڑیوں کی واپسی: ڈیوٹی ختم ہونے یا ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری گاڑیوں کی فوری واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس فیصلے کو عوامی حلقوں میں بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ ان ہدایات پر عمل درآمد سے صوبائی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کی بچت ہوگی۔
ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور لاگ بکس کے ذریعے سرکاری افسران میں جوابدہی کا احساس بڑھے گا۔
بچت شدہ رقم سے تعلیم، صحت اور صاف پانی جیسے منصوبوں کے لیے مزید فنڈز دستیاب ہوں گے۔