اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ حکم ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران دیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس نے کیس کی سماعت کی، جس میں عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سردار تنویر الیاس متعدد بار طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے اس رویے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالتی احکامات کی مسلسل عدم تعمیل قانون کی عملداری کو متاثر کرتی ہے، اس لیے سردار تنویر الیاس کو فوری طور پر گرفتار کر کے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم کی خود کش دھماکہ کی مزمت، لواحقین سے تعزیت،تحقیقات کا حکم
دورانِ سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ سردار تنویر الیاس کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے مبینہ غلط استعمال کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے، اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر ملزم کو ہر صورت پیش کیا جائے۔ عدالتی حکم کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سردار تنویر الیاس کی گرفتاری کے لیے اقدامات متوقع ہیں۔
واضح رہے کہ ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے استعمال سے متعلق قوانین سخت ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔ عدالت کی جانب سے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کیس کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

