وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ سے نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی، مشتبہ حملہ آور گرفتار

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ سے نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی، مشتبہ حملہ آور گرفتار

امریکی ریاست واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں کو گولی مار دی گئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قریب ایک شخص نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی۔ فائرنگ سے زخمی ہونے والے دونوں اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جن کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

ابتدائی معلومات میں واضح کیا گیا ہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس فائرنگ واقعہ میں ملوث حملہ آور کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ پر فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ افغان نیشنل رحمان اللہ لکنوال کے نام سے ہوئی ہے جسے 2021 میں بائیڈن کے فوری انخلاء پلان کے تحت امریکہ لایا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اس نے حملے کے دوران ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگایا۔

رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر بھی پروازوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا، تاہم چند گھنٹوں بعد معمول کی کارروائیاں بحال کر دی گئیں۔

مزید پڑھیں: روس یوکرین جنگ ختم کرانےکے حوالے سے صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ 

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ وہ تمام تر صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور صدر ٹرمپ کو فائرنگ کے واقعے سے متعلق بریفنگ دیدی گئی ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا۔ جائے وقوعہ کے اطراف کے علاقے کو بھی گھیرے میں لے لیاگیا، پولیس نے شہریوں کو آئی اسٹریٹ کے قریب جانے سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری نے کہا کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے شخص کو جانور قرار دیدیا۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے شخص کو بھاری قیمت چکانی ہوگی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *