ہانگ کانگ میں بلند و بالا عمارتوں پر مشتمل ایک رہائشی کمپلیکس میں بدھ کی دوپہر کو لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے اورآگ سے اب تک اموات کی تعداد 128 ہوگئی ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رہائشی کمپلیکس میں آگ نے تباہی مچادی اور دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے کئی بلاکس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، آتشزدگی کے واقعے میں اب تک 128 افراد کی ہلاکت ہوچکی ہے جن میں سے 51 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوئے جبکہ دیگر نے دوران علاج اسپتال میں دم توڑا۔
اس حوالے سے ہانگ کانگ فائرسروس حکام کا بتانا ہے کہ رہائشی کمپلیکس میں لگنے والی آگ تقریبا بجھا دی گئی ہے، یہ آگ شہر کی جدید تاریخ کی مہلک ترین آتشزدگیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن پر شبہ ہے کہ مرمت کے کام کے دوران چھوڑا گیا آتش گیر مواد آگ کے ’بے قابو ہو کر تیزی سے پھیلنے‘ کا سبب بنا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق فائر سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ درجہ حرارت بہت زیادہ ہے اور کچھ منزلوں پر ہم ان لوگوں تک نہیں پہنچ سکے ، آگ ممکنہ طور پر ہوا اور اڑتے ملبے کی وجہ سے ایک عمارت سے دوسری عمارت تک پھیلی، تاہم حکام اس کی وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ریاستی میڈیا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے ’فرض کی انجام دہی کے دوران مرنے والے فائر فائٹر‘ سمیت جان سے جانے والوں کے لیے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’انتہائی افسردہ‘ ہیں۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی ہانگ کانگ میں آتشزدگی کے واقعے میں قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری دلی تعزیت محترم صدر شی جن پنگ اور چینی قوم، خاص طور پر ہانگ کانگ کے عوام کے ساتھ ہے۔‘
وزیراعظم آفس سے جاری کیے گئے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ ’ہمارے دعائیں جان سے جانے والوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔‘
مقامی میڈیا کا بتانا ہے کہ آس پاس کی عمارتیں بھی خالی کی جا رہی ہیں جبکہ قریبی سڑک کے کچھ حصے بھی آگ بھجانے کی کارروائی کے دوران بند کر دیے گئے۔
یہ رہائشی کمپلیکس تائی پو ضلع میں واقع ہے، جو چینی سرحد کے نزدیک ہانگ کانگ کا ایک گنجان آباد علاقہ ہے اور ہزاروں افراد کا مسکن ہے ،یہ رہائشی ٹاور 8 بلاکس پر مشتمل ہے جس کی ہر عمارت 31 منزلہ ہے اور یہاں مجموعی طور پر لگ بھگ 2 ہزار اپارٹمنٹس اور تقریباً 5 ہزار کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں۔