سعودی عرب میں کام کرنے والے ملازمین سے متعلق نیا حکمنامہ جاری

سعودی عرب میں کام کرنے والے ملازمین سے متعلق نیا حکمنامہ جاری

سعودی عرب کی وزارتِ افرادی قوت و سماجی بہبود نے ملازمین سے متعلق نئے ضوابط جاری کر دئیے ہیں، جو سرکاری محکموں، نجی اداروں اور غیر منافع بخش تنظیموں تینوں شعبوں پر یکساں طور پر لاگو ہوں گے۔ وزارت کے مطابق ان قواعد کا مقصد کام کے ماحول کو زیادہ پیشہ ورانہ، باوقار اور ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ بنانا ہے ساتھ ہی حکومت ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے عوام سے تجاویز بھی حاصل کرے گی تاکہ ضوابط کو مزید مؤثر اور قابلِ عمل بنایا جا سکے۔

لباس سے متعلق ہدایات

نئے قواعد کے تحت مرد ملازمین کے لیے قومی لباس پہننے کی بھرپور تجویز دی گئی ہے  سعودی کارکنان کے لیے یہ پابندی بھی شامل ہے کہ وہ دفتری اوقات، سرکاری پروگراموں یا کسی بھی عوامی تقریب میں مکمل قومی لباس جس میں ثوب، غترہ یا شماغ شامل ہیں کا اہتمام کریں غیر ملکی ملازمین کے لیے بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ سادہ، باوقار اور پیشہ ورانہ لباس پہنیں  جو کام کی جگہ کے عمومی ماحول سے مطابقت رکھتا ہو۔

یہ خبربھی پڑھیں :ورک فرام ہوم ویزاکی پیشکش کرنے والے 10 بہترین ممالک

خواتین ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسا لباس پہنیں جو وقار اور پیشہ ورانہ آداب کی نمائندگی کرے اس میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لباس نہ تو بہت باریک ہو اور نہ ہی  چست، تاکہ کام کی جگہ کا وقار اور ثقافتی روایات برقرار رہیں خواتین کے لیے بھی سرکاری یا رسمی تقریبات میں مکمل باوقار لباس پہننا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

پیشہ ورانہ رویّے اور اخلاقیات
لباس کے ساتھ ساتھ ضوابط میں ملازمین کے عمومی رویّے پر بھی زور دیا گیا ہے  وزارت کا کہنا ہے کہ ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کام کے دوران بہترین اخلاق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کریں، ساتھیوں کے حقوق کا احترام کریں اور اسلامی اصولوں و سعودی ثقافت کا خصوصی خیال رکھیں۔ کسی تقریب یا میڈیا سے متعلق سرگرمی میں حصہ لیتے ہوئے بھی ایسے جملوں یا حرکات سے گریز کرنا ضروری ہوگا جو مذہبی یا ثقافتی حساسیت کو مجروح کر سکتی ہوں۔

صفائی اور ذاتی شائستگی
وزارت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ملازمین اپنے لباس اور ذاتی صفائی کا خیال رکھیں۔ ایسے لوازمات، تحریری مواد یا علامات کا استعمال ممنوع ہوگا جو سیاسی، فکری یا سماجی کشیدگی کا سبب بن سکتے ہوں۔ اس ہدایت کا مقصد کام کی جگہ کو تنازعات سے پاک اور مستحکم ماحول فراہم کرنا ہے۔

یہ نئے ضوابط سعودی عرب کے اس وسیع تر وژن کا حصہ ہیں جس کے تحت سرکاری و نجی اداروں کو زیادہ پیشہ ورانہ، باوقار اور عالمی معیار کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *