کوکنگ آئل کی قیمتوں سے متعلق اہم اخبر

کوکنگ آئل کی قیمتوں سے متعلق اہم اخبر

ملک میں مہنگائی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام صارفین کی زندگی میں نمایاں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
گھریلو خواتین سے لے کر متوسط طبقے تک ہر فرد اس بات کا شکوہ کرتا دکھائی دیتا ہے کہ تنخواہیں وہی رہ گئی ہیں مگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں رکنے کا نام نہیں لے رہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تھوک مارکیٹ میں کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی قابلِ ذکر اضافہ ہوگیا ہے، جس نے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 5 لیٹر کے کوکنگ آئل کے ڈبے کی قیمت میں 100 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے حالیہ اضافے کے بعد اس کی قیمت 2760 روپے سے بڑھ کر2860 روپے ہوگئی ہے۔

اس اضافے نے نہ صرف خریداروں کو حیران کیا ہے بلکہ بازار میں کام کرنے والے ہول سیل ڈیلرز بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اسی طرح 16 لیٹر کے مختلف گریڈز میں دستیاب کنستروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ درجہ اول کوکنگ آئل کے کنستر کی قیمت 150 روپے بڑھنے کے بعد 8570 روپے تک جا پہنچی ہے۔

یہ خبربھی پڑھیں :مہنگائی کا نیا دھچکا ، برائلر مرغی اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ

درجہ دوم کے آئل کی قیمت 8150 روپے سے بڑھ کر 8300 روپے ہو گئی ہے، جبکہ درجہ سوم کے 16 لیٹر کنستر کی نئی قیمت 8000 روپے مقرر کی گئی ہے جو اس سے قبل 7800 روپے تھی۔

یوں تمام گریڈز میں یکساں طور پر اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا براہِ راست اثر صارفین کی جیب پر پڑ رہا ہے۔مارکیٹ اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی سطح پر خوردنی تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور درآمدی اخراجات کا بڑھ جانا ہے۔

ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور شپنگ لاگت میں اضافہ بھی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ چونکہ ملک میں بڑی مقدار میں کوکنگ آئل درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیاں فوری طور پر مقامی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خوردنی اشیاء سمیت دیگر ضروری مصنوعات بھی مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔
عوام پہلے ہی گیس، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں سے پریشان ہیں، اور اب کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ ان کے روزمرہ اخراجات پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔ گھریلو بجٹ ترتیب دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور متوسط طبقہ شدید دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *