کینیڈا جانے کے خواہشمند طلبا کے لئے اہم خبر

کینیڈا جانے کے  خواہشمند طلبا کے لئے اہم خبر

کینیڈا نے گریجویٹ طلبا کے لیے موجودہ شرط میں ترمیم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سال 2026 میں بین الاقوامی اسٹڈی پرمٹس کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی کی جائے گی۔

اس اعلان کا بنیادی مقصد عارضی رہائشیوں کے تناسب کو کنٹرول کرنا ہے، تاکہ 2027 کے اختتام تک ان کی شرح کو 5 فیصد سے کم کیا جا سکے۔ اس حوالے سے کینیڈا کی امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (IRCC) نے واضح کیا ہے کہ وہ اسٹڈی پرمٹس کی فراہمی میں نئی پالیسی کے مطابق کمی لائے گا اور اس فیصلے کا اطلاق سال 2026 سے ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق IRCC نے 2026 کے لیے اسٹڈی پرمٹس کا ہدف مقرر کرتے ہوئے مجموعی طور پر 408,000 پرمٹس جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس میں 155,000 نئے بین الاقوامی طلبہ کے لیے اسٹڈی پرمٹس جبکہ موجودہ یا واپس آنے والے طلبہ کے لیے 253,000 توسیعی پرمٹس شامل ہوں گے۔

یہ مجموعی تعداد سال 2025 کے مقابلے میں 7 فیصد کم ہے جبکہ 2024 کے مقررہ ہدف سے 16 فیصد کم رکھی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کمی کینیڈا کے بین الاقوامی اسٹوڈنٹ پروگرام میں توازن پیدا کرنے اور اسے قومی ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بے نظیر تعلیمی وظیفہ اسکیم آگئی، جا نئے اہلیت اور اپلائی کرنے کا طریقہ

گریجویٹ سطح کے طلبہ کے لیے اہم تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ یکم جنوری 2026 سے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کے وہ طلبہ جو کینیڈا کے عوامی تعلیمی اداروں (DLIs) میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، انہیں اسٹڈی پرمٹ کے لیے درخواست دیتے وقت پروونشل یا ٹیرٹورئیل اٹیسٹیشن لیٹر (PAL/TAL) کی ضرورت نہیں رہے گی۔ حکام کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد گریجویٹ تحقیق کے ذریعے ملکی ترقی اور جدت کو تقویت دینا ہے، جبکہ اندازہ ہے کہ تقریباً 49,000 گریجویٹ طلبہ اس فیصلے سے فائدہ اٹھائیں گے۔

PAL/TAL کی تقسیم سے متعلق فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں مجموعی طور پر 180,000 پرمٹس ایسے ہوں گے جن کے لیے PAL/TAL درکار ہوگا۔ ان میں اونٹاریو اور کیوبک کو سب سے زیادہ حصہ ملے گا، جبکہ دیگر صوبوں اور علاقوں کو ان کی آبادی اور پچھلی منظوری کے تناسب کے مطابق حصص دیے جائیں گے۔ مزید برآں، کینیڈا 2026 میں زیادہ سے زیادہ 309,670 درخواستیں قبول کرے گا جن پر PAL/TAL کی شرط لاگو ہو گی۔ اس پالیسی کا مقصد اسٹڈی پرمٹ نظام میں شفافیت، توازن اور پائیدار منصوبہ بندی کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سفارتی محاذپر بھارت کو ایک اورجھٹکاایران نے بھارتی شہریوں کیلئے ویزا فری انٹری بند کردی

Related Articles