صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی کے مصروف علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب رات گئے کھلے مین ہول میں گرنے والا 3 سالہ بچہ ابراہیم 10 گھنٹے گزرنے کے باوجود نہ مل سکا، جس کے بعد شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کر دیں اور حالات کشیدہ ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ رات تقریباً 11 بجے پیش آیا جب ابراہیم ولد نبیل اپنے والدین کے ہمراہ ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کے بعد باہر آیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بچہ والد کا ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور پارکنگ ایریا میں موجود کھلے مین ہول میں گر گیا۔
بچے کے دادا محمود الحسن نے بتایا کہ والد موٹرسائیکل کھڑی کر رہے تھے کہ اسی دوران بچہ ان کے پیچھے آیا اور گہرے مین ہول میں جا گرا۔ اہلِ خانہ نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مین ہول پر ڈھکن نہ ہونا کھلی لاپرواہی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں ابتدا میں موقع پر پہنچیں مگر مشینری نہ ہونے کے باعث بچے کا سراغ نہ لگا سکیں، جس کے بعد ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق ’ہمارے پاس کھدائی کے لیے مشینری موجود نہیں تھی اور کسی سرکاری ادارے نے بھی مشینری فراہم نہیں کی، کوئی افسر موقع پر موجود نہیں‘۔ حیران کن طور پر شروع میں موجود مشینری بھی واپس چلی گئی۔
ریسکیو آپریشن رکنے پر شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوائی اور کھدائی کا عمل دوبارہ شروع کیا۔ بچے کی تلاش کے دوران اس کی والدہ غم سے نڈھال ہیں اور اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ انتظامیہ کے کام سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے مزید مشینری اور تیز آپریشن کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب عوام شدید مشتعل ہوگئے اور نیپا چورنگی پر احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں۔ مشتعل افراد نے نیپا سے حسن اسکوائر، جامعہ کراچی اور گلشن چورنگی جانے والے راستے بھی بلاک کر دیے۔ کچھ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جبکہ میڈیا پر بھی حملے ہوئے جن میں نجی چینلز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’میڈیا پوری رات موجود رہا، پھر بھی انتظامیہ نہیں آئی؟‘
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ’انکوائری شروع کردی گئی ہے کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں نہیں تھا، جس نے بھی غفلت کی اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘۔
ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے بھی نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور بچے کی جلد از جلد تلاش کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق کے ایم سی، واٹر کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا عملہ موقع پر موجود ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال کراچی میں کھلے مین ہول اور نالوں کے سبب 24 افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں جن میں 19 مرد اور 5 بچے شامل ہیں، جس کے بعد شہریوں میں انتظامیہ کے خلاف غم و غصہ مزید بڑھ گیا ہے۔