چینی ٹیکنالوجی کمپنی شاؤمی نے اپنی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگلے سال اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ میموری چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جو عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہیں اور اس صورتحال کا اہم سبب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میموری چپس تیار کرنے والی بڑی کمپنیاں، خصوصاً سام سنگ، نے موبائل فونز کے لیے چپس کی پیداوار کم کر دی ہے اور اپنی توجہ زیادہ تر ڈیٹا سینٹرز کے لیے چپس بنانے پر منتقل کر دی ہے، جہاں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں پوری انڈسٹری میں میموری چپس کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس کے اثرات اسمارٹ فون بنانے والی تمام کمپنیوں پر پڑ رہے ہیں۔
شاؤمی کے صدر لو ویبنگ کا کہنا ہے کہ میموری چپس کی قیمتوں میں یہ اضافہ براہِ راست 2026 میں متعارف کرائے جانے والے فونز کی قیمتوں پر اثر انداز ہوگا۔ ان کے مطابق اگلے سال مینوفیکچرنگ کے اخراجات موجودہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ جائیں گے، جس کی وجہ سے صارفین کو اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
لو ویبنگ نے مزید کہا کہ کمپنی کے پاس قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، تاہم قیمتوں میں اضافہ بھی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر گزشتہ کچھ سالوں میں اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا ہے اور موجودہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ رجحان آئندہ برسوں میں بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری اس انتباہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صارفین کو مستقبل میں زیادہ مہنگے اسمارٹ فونز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جب کہ پیداوار کے اخراجات اور اے آئی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مانگ اس صورتحال کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔