پاکستان میں جمعرات کے روز سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی عالمی مارکیٹ میں گراوٹ کے تسلسل نے مقامی صرافہ مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے ملک بھر میں سونے کی قیمتیں مزید نیچے آگئیں آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ سونا 1,700 روپے کمی کے بعد 4,41,462 روپے تک آ گیا۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 1,457 روپے سے کم ہوکر3,78,482 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے، قیمتوں میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرمایہ کار سونے کی خریداری میں محتاط رویہ اپنا رہے ہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کا رجحان مندی کا شکار رہا، جہاں فی اونس قیمت 17 ڈالر کم ہو کر 4,190 ڈالر تک گر گئی سونے میں کمی نے مارکیٹ کو حیران کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑی وجہ یہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آئندہ ہفتے ہونے والی امریکی فیڈرل ریزرو کی میٹنگ سے پہلے محتاط پوزیشن لے رہے ہیں، جس کا اثر قیمتوں پر فوری طور پر پڑ رہا ہے۔
سونا پاکستان میں ہمیشہ سے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے تاریخ کے تناظر میں سونے نے نہ صرف کرنسی بلکہ تحفظِ دولت کے طور پر بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔جب مہنگائی، معاشی بے یقینی یا سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو عوام اور سرمایہ کار سونا خریدنے کی طرف مائل ہوتے ہیں، جس سے قیمتوں میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
اس وقت عالمی معاشی رجحانات اس کے برعکس ہیں جس کی وجہ سے قیمتیں مسلسل دباؤ میں ہیں ،گزشتہ سال پاکستان میں سونے کے نرخ طے کرنے کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی تھی، جس کے تحت اب مقامی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے نرخ کے مقابلے میں 20 ڈالر فی اونس اضافی پریمیم کے ساتھ مقرر کی جاتی ہیں۔