ایران کی کرنسی تاریخ کی انتہائی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے،جہاں ایک امریکی ڈالر بارہ لاکھ ایرانی ریال کا ہوچکا ہے ۔پابندیوں نے ایرانی کی لڑکھڑاتی معیشت کو مزید تباہ کر کے رکھ دیا ہے اسرائیل کے ساتھ چند دن کی جنگ کے بعد ایران کے عوام اپنی رقوم کو محفوظ رکھنے کے لئے سونا چاندی اور دیگر اثاثے خریدنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔
ایران میں ریال کی قدر میں کمی کے باعث ایک نیا ریکارڈ قائم ہوگیا ہے اور اب وہاں پر ایک امریکی ڈالر بارہ لاکھ کا ہوگیا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ میں جوہری مذاکرات میں ڈیڈ لاک ہے ،ایرانی ریال کی گرتی ہوئی قیمت کے باعث وہاں پر اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بھی انتہائی گر گئی ہیں ۔
ایران میں مہنگائی کے باعث لوگوں کا جینا محال ہوچکا ہے یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ ایران کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے ۔
ایک الیکٹریکل انجینئر علی مشتاق کا کہنا ہے کہ لوگوں کی زندگی نہ صرف یہ کہ مشکل ہوگی بلکہ عوام میں مزید خدشات بھی جنم لیں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے سے اچانک علیحدگی اور پابندیوں کی بحالی نے ایرانی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔اس اقدام کے بعد ایران کو شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً اس وقت جب امریکی پالیسی سازوں نے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے ایران کی تیل برآمد کرنے والی کمپنیوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا۔
اس کے نتیجے میں وہ کمپنیاں جو چین سمیت مختلف ممالک میں کم قیمت پر ایرانی خام تیل فروخت کرتی تھیں، پابندیوں کی سخت زد میں آگئیں ٹرمپ کے فیصلے کے وقت ایرانی ریال کی قیمت تقریباً32 ہزار ریال فی امریکی ڈالر تھی، مگر بعد میں اس کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔
امریکی دباؤ کے نتیجے میں ایران کی مالیاتی صورتِ حال مزید ابتری کا شکار ہوئی۔ ستمبر میں اقوام متحدہ نے بھی ایران کے خلاف جوہری سرگرمیوں کی بنیاد پر نئی پابندیاں عائد کیں، جن میں ایرانی اثاثوں کو منجمد کرنا، ہتھیاروں کی خرید و فروخت روکنا اور بیلسٹک میزائل پروگرام میں پیش رفت کو محدود کرنے کے اقدامات شامل تھے۔