گلگت بلتستان 100 میگا واٹ توانائی منصوبہ، تمام اخراجات وفاق اٹھائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان

گلگت بلتستان 100 میگا واٹ توانائی منصوبہ، تمام اخراجات وفاق اٹھائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منگل کے روز وفاق کے زیرِ اہتمام گلگت بلتستان میں جاری 100 میگا واٹ کے تاریخی شمسی توانائی (سولر پاور) منصوبے پر کام کی رفتار کو تیز کرنے اور اسے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔

یہ احکامات وزیراعظم نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیے۔ وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران منصوبے کی اب تک کی پیش رفت کا انتہائی باریک بینی سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان حکومت سازی، پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت، ن لیگ اپوزیشن میں بیٹھے گی

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منصوبے کے ہر مرحلے پر ’شفافیت‘ کو سو فیصد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس مقصد کے لیے ایک آزاد اور غیر جانبدار ’تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن‘ (تیسرے فریق سے آڈٹ اور تصدیق) کرانے کا قطعی حکم دیا۔

وزیراعظم نے خطے کے عوام کے لیے وفاق کی کمٹمنٹ (عزم) کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ اس اہم منصوبے پر آنے والے تمام تر اخراجات وفاقی حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ گلگت بلتستان کی انتظامیہ پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔

اجلاس کے دوران حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خطے بھر کی سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن (شمسی توانائی پر منتقلی) کے لیے 18 میگا واٹ کا منصوبہ تیزی سے زیرِ عمل ہے۔

اس منصوبے کے تحت گلگت اور دیامر ڈویژن میں سرکاری عمارتوں کو سولر پر منتقل کرنے کا کام دسمبر تک مکمل ہونے کی قوی توقع ہے، جبکہ بلتستان ڈویژن میں یہ ہدف اکتوبر تک حاصل کر لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا مذاکرات کے دوران مسلسل تعاون فراہم کرنے پر امریکا اور ایران کی قیادت سے اظہار تشکر

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گلگت، اسکردو، چلاس اور خپلو کے عام گھروں کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے 82 میگا واٹ کے متوازی سولر منصوبے پر بھی کام پوری قوت سے جاری ہے۔

گلگت بلتستان کا یہ 100 میگا واٹ کا سولر منصوبہ خطے کی توانائی کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ اگست 2025 میں قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اس منصوبے کی اصولی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں، دسمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کو بلا تعطل، سستی اور پائیدار بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اس منصوبے کی باضابطہ اور حتمی منظوری دی تھی، جس کے بعد سال 2026 میں اس پر عملی کام کا آغاز ہوا۔

یہ منصوبہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ گلگت بلتستان روایتی طور پر سردیوں میں پن بجلی (ہائیڈرو پاور) کی شدید کمی کا شکار ہو جاتا ہے، کیونکہ ندی نالوں میں پانی جم جانے یا بہاؤ کم ہونے سے بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ ایسے میں شمسی توانائی کا یہ منصوبہ متبادل اور پائیدار توانائی کا ایک بہترین اور فوری ذریعہ ثابت ہوگا۔

Related Articles