شہزاد اکبر اور عادل راجہ کو پاکستان لانے سے متعلق اہم پیش رفت

شہزاد اکبر اور عادل راجہ کو پاکستان لانے سے متعلق اہم پیش رفت

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی برطانیہ پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی برطانوی وزارتِ خارجہ کے حکام سے ملاقات طے ہے۔ اس ملاقات میں چند پاکستانی شہریوں کی حوالگی کے معاملے پر بات چیت متوقع ہے۔

محسن نقوی تین روز تک برطانیہ میں قیام کریں گے۔ اپنے دورے کے دوران وہ چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آئندہ سیزن کی لانچ تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو اتوار کے روز لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں منعقد ہوگی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ کی برطانوی فارن آفس کے حکام سے ملاقات میں مطلوب پاکستانی شہریوں کی حوالگی مرکزی موضوع ہوگا۔ بتایا گیا ہے کہ محسن نقوی ان پاکستانیوں سے متعلق شواہد پہلے ہی برطانوی ہائی کمشنر کے حوالے کر چکے ہیں۔ تاہم برطانوی فارن آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہائی کمشنر کو دیے گئے ڈوزیئر ابھی تک لندن نہیں پہنچے۔

پاکستان کی جانب سے برطانیہ کو دیے گئے ان شواہد میں عادل راجہ اور شہزاد اکبر کی حوالگی کی درخواست بھی شامل ہے۔ دو روز قبل اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ اور برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان ملاقات ہوئی تھی، جس میں پاک برطانیہ تعلقات، سیکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کے معاملات بھی زیرِ غور آئے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت نے شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دے دیا ، وارنٹِ گرفتاری بھی جاری

اسی ملاقات میں محسن نقوی نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کے سرکاری دستاویزات برطانوی ہائی کمشنر کے سپرد کیے۔ وزیر داخلہ نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں افراد پاکستان میں مطلوب ہیں، لہٰذا انہیں جلد از جلد پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے ایسے پاکستانیوں کے خلاف بھی شواہد فراہم کیے جو بیرون ملک بیٹھ کر پراپیگنڈا اور فیک نیوز پھیلا رہے ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ وہ آزادی اظہار پر یقین رکھتے ہیں، تاہم فیک نیوز ہر ملک کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہر بیٹھ کر جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کو جلد واپس لایا جائے گا۔ اس سے قبل لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بے بنیاد خبریں پھیلانے والوں کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ انہیں بیرون ملک تحفظ ملے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جو لوگ اداروں کے خلاف بے بنیاد باتیں کر رہے ہیں، انہیں اپنے عمل کا جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ باہر بیٹھ کر فیک نیوز پھیلانے والے بہت جلد پاکستان واپس آئیں گے اور تمام معاملات کا سامنا کریں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *