وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ’بلوچوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا لیکن یہ یاد رکھا جائے کہ سیاست سے زیادہ ریاست اہم ہوتی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ریاست مخالف بیانیے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے‘۔
اتوار کو ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے زور دیا کہ ’سیاست سے زیادہ ریاست اہم ہوتی ہے، ریاست ہوگی تو سیاست بھی ہوگی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور ’تشدد کے ذریعے ملک کو توڑنے کی کوششیں ناکام ہوں گی‘۔
سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے آپریشنز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’760 دہشتگرد مارے گئے‘ جبکہ ’900 سے زائد دہشتگردی کے واقعات میں 205 فوجی جوان شہید ہوئے‘۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں ’280 بے گناہ شہری بھی شہید کیے گئے جن کا کوئی قصور نہیں تھا‘۔
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ’8 سے 10 دہشتگرد روزانہ افغانستان سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ان میں سے متعدد دہشتگردوں کی ’لاشیں اب بھی سرحدی علاقوں میں موجود‘ ہیں۔
انہوں نے افغان طالبان حکام پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’افغان طالبان رجیم وعدہ خلافی بھی کر رہی ہے اور احسان فراموشی بھی‘۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی، لیکن بدلے میں سرحد پار سے دہشتگردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ایک بار پھر ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے ریاستی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاست نے معافی کا دروازہ کھولا ہوا ہے، ہتھیار اٹھانے والے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’100 کے قریب افراد ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں واپس آچکے ہیں‘ اور ریاست انہیں ’دل سے خوش آمدید‘ کہتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ 2010 میں بھی کچھ دہشتگرد واپس آئے لیکن دوبارہ پہاڑوں کا رخ کر لیا، اس لیے ان پر نظر رکھی جائے گی۔
سرفراز بگٹی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے افواج پاکستان کے خلاف مسلسل جاری پروپیگنڈا کو ’قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تشدد کے ذریعے پاکستان کو توڑنے کا بیانیہ‘ پھیلایا جا رہا ہے جو دشمن کے عزائم کو تقویت دیتا ہے۔ ایک جماعت اپنے شہرت کا بیانیہ لے کر چلتی ہے، اسے شہرت تو ملتی ہے لیکن اس کے بیانیے سے ملک کے دشمن مضبوط ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’فیلڈ مارشل نے اپنی حکمت عملی سے بھارت کے عزائم خاک میں ملائے تھے، ہمیں آج بھی ایسے ہی عزم کی ضرورت ہے‘۔
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’اچھا نہیں لگتا کہ ساتھی سیاستدانوں کو سیکیورٹی تھریٹ قرار دیا جائے‘، لیکن کچھ عناصر ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے ضمنی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’مقبولیت تو پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ضمنی الیکشن میں واضح ہو چکی ہے‘۔
سرفراز بگٹی نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’پاپولر لیڈر کے اپنے بچے تو لندن میں ہیں‘ جبکہ عوام کو اس پاپولر لیڈر کے ملک مخالف بیانیوں کی قیمت جان دے کر چکانی پڑتی ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’سہیل آفریدی سے گزارش ہے کہ آپ کے صوبوں کو امن و ترقی کی ضرورت ہے، ہمیں ریاست کو کمزور کرنے والا بیانیہ ترک کرنا ہوگا‘۔
آخر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ پورا ملک ’اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہو‘، کیونکہ ’یہ جنگ صرف فورسز کی نہیں بلکہ پوری ریاست کی جنگ ہے‘، اور ’شہدا ہمارا فخر ہیں‘۔