جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو آج دو روزہ سرکاری دورے پراسلام آباد پہنچے ہیں جہاں نور خان ایئر بیس پر ان کا وزیراعظم شہبازشریف اور صدر مملکت نے پرتپاک استقبال کیا ۔
🚨🚨انڈونیشیا کےصدر پرابوو سو بیانتو 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نےمعزز مہمانوں کا نور خان ایئر بیس پر استقبال کیا pic.twitter.com/rugmhPmUkI
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے ، وزرا اور سینیئر حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی انڈونیشیا کے صدر ساتھ ہو گا، یہ صدر پرابووو کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے، انڈونیشیا کی جانب سے آخری صدارتی دورہ 2018 میں صدر جوکو ویڈوڈو نے کیا تھا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق صدر پرابووو سوبیانتو اپنے 2 روزہ قیام کے دوران وزیرِاعظم کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے، وہ صدرِ آصف علی زرداری، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔
صدر انڈونیشیا کا دورہ اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سال پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور علاقائی و عالمی سطح پر شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر جامع تبادلۂ خیال کریں گے۔
صدر ابووو کے دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان قریبی، خوشگوار اور دیرینہ تعلقات موجود ہیں جو مشترکہ اقدار اور باہمی مفادات پر قائم ہیں ، صدر پرابووو کا دورہ دو ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دوطرفہ مفاد میں تعاون کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا اور شراکت داری کے تسلسل کے استحکام اور وسعت میں مددگار ثابت ہوگا۔