سولر پینل سسٹم لگوانے کے خواہشمندوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

سولر پینل سسٹم لگوانے کے خواہشمندوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

ملک بھر میں سولر پینل سسٹمز کی قیمتوں میں ایک بار پھر واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو گھریلو صارفین کے لیے کسی خوشخبری سے کم نہیں ہے۔

 بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں سولر پینلز لگوانے کی طرف راغب ہو رہے ہیں، اور نئی قیمتوں نے اس رجحان کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔

مارکیٹ کے تازہ ترین ذرائع کے مطابق، 5 کلو واٹ کا سولر سسٹم اب تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار روپے میں دستیاب ہے، جبکہ کچھ ہفتے قبل یہ سسٹم چھ لاکھ روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

 اس کمی کی وجہ سے چھوٹے گھریلو سسٹمز کی ڈیمانڈ میں واضح اضافہ متوقع ہے، کیونکہ زیادہ تر گھرانے اپنی توانائی کی ضروریات کو کم خرچ میں پورا کرنے کے خواہاں ہیں۔

اسی طرح، 7 کلو واٹ کا سولر سسٹم بھی اب پہلے کے مقابلے میں کافی سستا ہو گیا ہے اور اس کی نئی قیمت تقریباً چھ لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے،  پہلے یہ سسٹم کافی مہنگا ہونے کی وجہ سے بہت سے صارفین کے لیے خریدنا مشکل تھا، لیکن نئی قیمتوں نے اسے زیادہ قابلِ برداشت بنا دیا ہے، جس سے درمیانے سائز کے گھروں اور چھوٹے کاروباری اداروں میں تنصیب کا رجحان بڑھنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سولر پینلز صارفین کیلئے بڑی خبر آگئی

10 کلو واٹ کے سسٹمز کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے،  پہلے یہ سسٹمز 10 لاکھ 50 ہزار سے 11 لاکھ روپے کے درمیان فروخت ہو رہے تھے، لیکن اب یہ سسٹمز تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار سے 10 لاکھ روپے میں دستیاب ہیں، اس کمی نے بڑے گھروں اور تجارتی جگہوں پر سولر سسٹمز کی تنصیب کو آسان اور معاشی طور پر ممکن بنایا ہے۔

اسی طرح، 15 کلو واٹ کے سسٹمز کی قیمت بھی صارفین کے لیے زیادہ قابلِ برداشت ہو گئی ہے،  پہلے یہ سسٹمز 14 لاکھ روپے سے زائد میں فروخت ہوتے تھے، مگر اب مارکیٹ میں یہ تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار سے 13 لاکھ روپے میں دستیاب ہیں ، اس سے نہ صرف بڑے گھروں بلکہ صنعتی اور کاروباری اداروں میں بھی سولر توانائی کی تنصیب کا عمل آسان ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر پینلز کی قیمتوں میں یہ کمی نہ صرف صارفین کے لیے مالی بوجھ کم کرے گی بلکہ ملک میں توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کو بھی فروغ دے گی، سولر سسٹمز کی کم ہوتی قیمتیں صارفین کے لیے ایک خوش آئند سہولت کا درجہ رکھتی ہیں اور توانائی کی بچت کے ساتھ ماحول دوست توانائی کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *