پنجاب میں مریم نواز راشن کارڈ پروگرام کے تحت درخواست دینے والے شہریوں کے ڈیٹا سے متعلق ازسرِنو جانچ کا عمل شروع کیا جارہا ہے۔تفصیلات کے مطابق 3,339 افراد کی درخواستیں دوبارہ سے ویری فائی کی جائیں گی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ مکمل شفافیت کے ساتھ حقیقی مستحقین تک سہولت پہنچے۔
اس مقصد کے لیے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 9,498 شہریوں کا ڈیٹا موصول ہوا تھا جسے مختلف مراحل سے گزار کر جانچا جارہا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق مریم نواز راشن کارڈ اسکیم کے تحت مستحق خاندانوں کی معاونت کے لیے 6,159 راشن کارڈز کی طباعت مکمل کرلی گئی ہے، جنہیں جلد ہی اہل افراد تک پہنچادیا جائے گا۔
پروگرام کے لیے صوبائی حکومت کی طرف سے چار ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے جو اشیائے خورونوش کی خریداری پر براہِ راست رعایت کی صورت میں راشن کارڈ ہولڈرز کو فراہم ہوگی۔کم آمدن اور معاشی دباؤ کا شکار گھرانوں کو ماہانہ بنیادوں پر نمایاں ریلیف ملنے کی توقع کی جارہی ہے۔
اس سے قبل بھی پنجاب میں شہریوں کو راشن کارڈ جاری کیے جاچکے ہیں تاہم اس مرتبہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر سماجی طور پر کمزور ترین طبقات کا الگ ڈیٹا جمع کیا گیا ہے تاکہ امداد درست خاندانوں تک پہنچ سکے۔
رجسٹریشن اور تصدیقی عمل مرحلہ وار جاری ہے اور مزید اہل افراد کی نشاندہی بھی کی جارہی ہے حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام صوبے میں بڑھتے معاشی بوجھ کے باعث مشکلات کےشکار خاندانوں کے لیے فوری اور مؤثر سہولت کا کردار ادا کرے گا،حکام پرامید ہیں کہ راشن کارڈ سکیم نہ صرف خوراک کے بحران سے نمٹنے میں معاون ہوگی بلکہ کمزور طبقے کوبااختیار بنانے کی جانب بھی اہم قدم ثابت ہوگی۔