پنجاب کے تمام سرکاری و نجی سکولوں کے لیے سخت سیکورٹی ہدایات، نئی ایس او پیز جاری ،پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں سیکورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں کے لیے سخت ترین حفاظتی قواعد نافذ کر د ئیے ہیں۔
حکام کے مطابق کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے اور طلبہ کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نئے ایس او پیز پر فوری عمل درآمد لازمی قرار دے دیا گیا ہےان ہدایات کے تحت ہر سرکاری و نجی سکول کو اپنی عمارت کے گرد کم از کم آٹھ فٹ بلند چار دیواری تعمیر کرنا ہوگی جبکہ حدود کے گرد خاردار تار یا دیگر حفاظتی انتظامات بھی لازمی ہوں گے تاکہ غیر متعلقہ افراد کا داخلہ مؤثر انداز میں محدود کیا جا سکے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہر تعلیمی ادارے میں تربیت یافتہ سیکورٹی گارڈز کی موجودگی بنیادی شرط ہوگی، اس کے ساتھ ہی سکولوں میں جدید سی سی ٹی وی نظام نصب کرنے، ہر داخلی راستے کی مسلسل نگرانی کرنے اور ریکارڈنگ کا مناسب انتظام رکھنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ میٹل ڈیٹیکٹر سے اسکول میں آنے والے ہر شخص کی جانچ لازمی قرار دی گئی ہے مرکزی دروازے پر ہنگامی صورتحال میں فوری اطلاع دینے کے لیے پینک بٹن کی تنصیب بھی ضروری قرار پائی ہے، جبکہ روزانہ کی آمد و رفت کے لیے صرف ایک گیٹ استعمال کیا جائے گا تاکہ سیکورٹی چیک مؤثر بنایا جا سکے۔
محکمہ تعلیم نے تمام سکول انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ ریسکیو 1122 پولیس اور سول ڈیفنس کے ساتھ باقاعدگی سے ایمرجنسی ڈرلز منعقد کی جائیں ان مشقوں کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملہ بروقت اور درست طریقے سے ردعمل دینے کے قابل ہوں۔
اس کے ساتھ ہی اداروں میں ایمرجنسی راستے نمایاں طور پر ظاہر کرنا، ہنگامی فون نمبرز کی فہرست آویزاں کرنا اور سٹاف کو بنیادی تربیت دینا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔مزید برآں، حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی اسکول کے لیے اسپیشل برانچ سے سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنا لازمی ہوگا کلیئرنس کے بغیر ادارے کو فعال رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔