امریکی صدر ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان نے سب سے مؤثر سفارتی تعلقات قائم کیے، امریکی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ

امریکی صدر  ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان نے سب سے مؤثر سفارتی تعلقات قائم کیے، امریکی جریدے فارن پالیسی کی رپورٹ

امریکا کے معتبر جریدے فارن پالیسی نے پاک امریکا تعلقات پر تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان نے سب سے مؤثر اور کامیاب سفارتی تعلقات قائم کیے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مضبوط ذاتی کیمسٹری بنی، جس کا فائدہ دونوں ممالک کے تعلقات پر نمایاں طور پر ظاہر ہوا۔ امریکی صدر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو متعدد بار وائٹ ہاؤس مدعو کیا، جو دوطرفہ اعتماد کا ثبوت ہے۔

امریکی جریدے کے مطابق پاکستان نے کابل دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں مدد سمیت مختلف حساس معاملات میں بروقت تعاون فراہم کر کے صدر ٹرمپ کا اعتماد حاصل کیا۔ اسی تعاون کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ٹرمپ کے قریبی لابیسٹ کے ساتھ رابطوں، کرپٹو اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے بھی دوطرفہ تعلقات کو فائدہ پہنچایا، جبکہ ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان نے سفارتی سطح پر غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا حکم

فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق اہم کامیابی کرٹیکل منرلز کے شعبے میں سامنے آئی، جہاں ایف ڈبلیو او اور ایک امریکی کمپنی کے درمیان 500 ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا۔ اس کے ساتھ پاکستان میں کرپٹو تعاون میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور پاکستان کرپٹو کونسل نے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ اپنی شراکت مزید مضبوط کی۔

رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ رویہ سخت ہے، جس کی بڑی وجوہات میں ٹیرف کے مسائل، روسی تیل کی خریداری اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی شامل ہیں۔ مئی میں ہونے والی جنگ بندی کا کریڈٹ پاکستان نے کھل کر ٹرمپ کو دیا، جبکہ بھارت نے اس کریڈٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور پاکستانی قیادت کے درمیان گرمجوشی کے باعث امریکی بیانیہ بھی پاکستان کے لیے نسبتاً نرم ہوا ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، بلکہ دوطرفہ معاملات کو ان کی اصل اہمیت کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *