ڈاکٹر وردا کیس: عدالت نے ملزمان سے متعلق اہم فیصلہ سنا دیا

ڈاکٹر وردا کیس: عدالت نے ملزمان سے متعلق اہم فیصلہ سنا دیا

ایبٹ آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر وردہ مشتاق کے قتل کیس میں نامزد ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔

ڈاکٹر وردہ مشتاق، جو کہ ایبٹ آباد کے بینظیر شہید اسپتال میں سینئر ڈاکٹر تھیں، کو مبینہ طور پر 67 تولے سونے کے تنازع پر قتل کیا گیا، اور اس افسوسناک واقعے کے پیچھے ان کی قریبی دوست ردا وہاب کا نام سامنے آیا ہے۔

پولیس نے مرکزی ملزمہ ردا وحید سمیت ندیم ولد اورنگزیب اور پرویز ولد ایوب کو انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے تین روزہ ریمانڈ منظور کیا۔ تاہم کیس کا ایک اور اہم ملزم شمریز تاحال مفرور ہے۔

ڈاکٹر وردہ مشتاق کے قتل کے خلاف ایوب میڈیکل کمپلیکس، تحصیل ہسپتال لورا اور حویلیاں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔پروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ہزارہ کے صدر ڈاکٹر ضیا قمر ڈاکٹر ضیا قمر نے بتایا کہ تاحال ایسوسی ایشن کو کوئی تحریری دستاویز فراہم نہیں کی گئی، جس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر وردا کو کیوں قتل کیا گیا؟ اصل کہانی سامنے آگئی

یاد رہے کہ 4 دسمبر کو ڈاکٹر وردہ مشتاق کو ان کی دوست ردا وحید ہسپتال سے اس بہانے لے گئی کہ وہ 67 تولے سونے کے زیورات واپس کرنا چاہتی ہے۔ بعد ازاں انہیں جڈون پلازہ کے قریب زیر تعمیر مکان میں قتل کر دیا گیا اور لاٰئ بنوٹا کے جنگل میں ایک گڑھے میں دفن کر دیا گیا۔ پولیس نے 8 دسمبر کی صبح ملزمان کی نشاندہی پر لاش برآمد کی، جس کے بعد ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی نے شدید احتجاج کیا۔

مظاہرین نے فوارہ چوک ٹریفک کے لیے بلاک کر دیا تھا، تاہم ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر افسران نے مذاکرات کے بعد ٹریفک بحال کرائی۔

Related Articles