گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کےلئے اہم خبر

گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کےلئے اہم خبر

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گاڑیوں کی درآمد کے لیے نئے طریقہ کار کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کئی اہم اقتصادی فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان 2025-26 کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پاور سیکٹر کی مالی پائیداری اور کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔

نئے طریقہ کار کے مطابق، درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے وقفہ دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت، درآمد شدہ گاڑیاں ایک سال تک ناقابلِ منتقلی رہیں گی، یعنی یہ مدت ختم ہونے تک انہیں منتقل نہیں کیا جا سکے گا۔ مزید برآں، تمام درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے کمرشل سیفٹی اور ماحولیاتی معیار کی پابندی لازمی ہوگی، تاکہ گاڑیوں کی حفاظت اور ماحول دوست استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ اوورسیز مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) اور پیٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ منظور کیا گیا، جسے پانچ سے دس فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔ اس اضافے کا نصف حصہ فوری طور پر نافذ ہوگا جبکہ باقی اضافہ ڈیجیٹائزیشن کے عمل کے مکمل ہونے سے مشروط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی ملک دشمن مہم مزید تیز، لندن میں وزیرِداخلہ محسن نقوی کی گاڑی کی پروٹوکول چیکنگ پر پروپیگنڈا بے نقاب

مزید برآں، ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لیے پانچ ارب روپے کے اضافی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی، تاکہ ترقیاتی منصوبوں کو تیز کیا جا سکے۔ اسی طرح، پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے پنشن اور میڈیکل اخراجات کے لیے بھی فنڈز کی اصولی منظوری دی گئی، تاکہ ملازمین کے حقوق اور سہولیات برقرار رہیں۔

یہ اجلاس ملکی اقتصادی استحکام، درآمدات کے نظم و نسق اور پاور سیکٹر کی بہتر کارکردگی کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کا حامل رہا، جو ملک میں اقتصادی ترقی اور مالی شفافیت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

یہ فیصلے نہ صرف درآمد شدہ گاڑیوں کی پالیسی میں تبدیلی کے حامل ہیں بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، سرکاری فنڈز کے انتظام اور اداروں کی مالی ضروریات کے حوالے سے بھی اہم اقتصادی اقدامات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کے شوقین افراد کیلئے خوشخبری، معروف کمپنی کی بڑی پیشکش

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *