خیبر پختونخوا میں بڑی چوری پکڑی گئی ، 112 ارب روپے کے منصوبے میں مالی بے قاعدگیوں کے شواہد سامنے آگئے

خیبر پختونخوا میں بڑی چوری پکڑی گئی ، 112 ارب روپے کے منصوبے میں مالی بے قاعدگیوں کے شواہد سامنے آگئے

خیبر پختونخوا کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں شمار ہونے والے رورل ایکسیسبیلٹی پراجیکٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، غیر قانونی ٹھیکوں کی الاٹمنٹ، زائد نرخوں پر معاہدوں اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے ذریعے قومی خزانے کو تقریباً 10 ارب روپے نقصان پہنچانے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے معاملے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔

ذرائع کے مطابق منصوبے کا ابتدائی پی سی ون 69 ارب روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں مختلف وجوہات کی بنیاد پر اس کی لاگت بڑھا کر 112 ارب روپے کر دی گئی۔ لاگت میں اس نمایاں اضافے نے منصوبے کے مالی معاملات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نیب خیبر پختونخوا کے ذرائع کے مطابق ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران متعدد بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات کا دائرہ خاص طور پر این آئی ٹی ون اور این آئی ٹی ٹو کے تحت دیے گئے ٹھیکوں تک پھیلایا گیا ہے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 50 ارب روپے بتائی جاتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے تحت عالمی بینک کے مالی تعاون سے جاری ہے اور صوبے کے دور دراز علاقوں کو بہتر سڑکوں اور سفری سہولیات سے منسلک کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ منصوبے کے متعدد حصوں پر تعمیراتی کام جاری ہے جبکہ کئی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسی دوران این آئی ٹی تھری کے تحت نئے ٹھیکے بھی حال ہی میں جاری کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیںآزاد کشمیر سے متعلق بیانات پر پاکستان کا سخت ردعمل، برطانیہ سے کارروائی کا مطالبہ

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق نیب اس امر کا بھی جائزہ لے رہا ہے کہ آیا بعض ایسے ٹھیکیداروں کو منصوبے دیے گئے جو مطلوبہ فنی اور مالی اہلیت پر پورا نہیں اترتے تھے۔ مزید یہ کہ بولیوں کی منظوری مارکیٹ ریٹ شیڈول (ایم آر ایس 2022) کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ نرخوں پر دی گئی جس کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تخمینوں میں قومی خزانے کو 10 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے تاہم حتمی نقصان کا تعین مکمل تحقیقات اور آڈٹ کے بعد کیا جائے گا۔

نیب حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا عمل جاری ہے اور تمام متعلقہ ریکارڈ ٹھیکوں کی تفصیلات، بولی کے عمل اور مالی معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

editor

Related Articles