رپورٹس کے مطابق خالد شریف بٹ کو مبینہ طور پر بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہو سکا۔
کشمیری میڈیا کا کہنا ہے کہ نوجوان کو پہلے اغوا کیا گیا اور بعد ازاں اس کی لاش برآمد ہوئی، جس پر علاقے میں شدید غم و غصے کی فضا پائی جاتی ہے۔
واقعے کے بعد مقتول کے اہل خانہ اور مقامی افراد نے بھرپور احتجاج کیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سوگوار خاندان کا کہنا ہے کہ خالد شریف بٹ کو بے گناہ ہونے کے باوجود تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
حریت رہنما عبدالحمید لون اور عبدالمجید لون نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری نوجوان کو جموں سے اغوا کیا گیا اور دوران حراست تشدد کے باعث اس کی جان چلی گئی۔ حریت قیادت نے اسے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حریت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فورسز کے اقدامات سے خوف و ہراس کی فضا قائم ہے، تاہم ایسے واقعات کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔