محکمہ ایکسائز پنجاب نے پراپرٹی ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے حتمی نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
حکام کے مطابق 31 دسمبر تک ٹیکس ادا نہ کرنے والی پراپرٹیز کو سربمہر کر دیا جائے گا، جبکہ کمرشل ڈیفالٹرز سے وصولی کے لیے عملی اقدامات بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔
ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولیوں کو یقینی بنانے اور نادہندگان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے فیلڈ آپریشنز میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں واضح کیا گیا ہے کہ جو پراپرٹی مالکان مقررہ تاریخ تک واجب الادا ٹیکس ادا نہیں کریں گے، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے تین ریجنز میں پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 18 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جس کے مقابلے میں اب تک پونے 9 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 73 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے، جن میں سے ساڑھے 37 ارب روپے کی وصولی مکمل ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق ٹیکس نیٹ کو مزید مؤثر بنانے اور وصولیوں میں اضافہ کرنے کے لیے فیلڈ سطح پر کارروائیوں کو وسعت دی جا رہی ہے۔
محکمہ ایکسائز نے واضح کیا ہے کہ یکم جنوری سے ٹیکس نادہندگان سے جرمانے کے ساتھ وصولی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بڑے ڈیفالٹرز کو جائیداد کی قرقی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات ٹیکس نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ نے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فیلڈ میں موجود رہیں اور کارروائیوں کی خود نگرانی کریں تاکہ کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ شفافیت اور مؤثر نگرانی کے بغیر مقررہ اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔
ایکسائز حکام کے مطابق رواں مالی سال کے دوران محکمہ ایکسائز نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اب تک پونے 11 ارب روپے اضافی وصول کیے ہیں، جو محکمہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری کا ثبوت ہے۔
محکمہ ایکسائز پنجاب نے شہریوں اور کاروباری طبقے سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت پراپرٹی ٹیکس ادا کریں تاکہ قانونی کارروائی، جرمانوں اور دیگر سخت اقدامات سے بچا جا سکے۔