خیبرپختونخوا پولیس نے صوبائی حکومت سے ایک بار پھر خصوصی الاؤنس دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس نے صوبائی حکومت سے ایک مرتبہ پھر خصوصی الاؤنس کی منظوری کا مطالبہ کر دیا ہے، جس کے لیے باقاعدہ سمری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو ارسال کر دی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق صوبے میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے مسلسل خطرات کے پیش نظر فورس کے لیے اضافی مالی سہولت ناگزیر ہو چکی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن فورس کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس دوران پولیس کے متعدد افسران اور جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جبکہ بہت سے اہلکار مختلف واقعات میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر پرتشدد واقعات کے خطرات تاحال موجود ہیں، جس کے باعث پولیس اہلکار مسلسل دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔
سمری میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں پولیس اہلکاروں کو کسی قسم کی خصوصی مالی مراعات یا الاؤنس فراہم نہیں کیے جا رہے، جو فورس کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
پولیس حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ اہلکاروں کو بنیادی تنخواہ کے برابر خصوصی الاؤنس دیا جائے تاکہ ان کی معاشی مشکلات میں کمی ہو اور وہ بہتر انداز میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خصوصی الاؤنس کی منظوری سے نہ صرف اہلکاروں کے حوصلے بلند ہوں گے بلکہ فورس کی مجموعی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی ، سمری کے مطابق مجوزہ الاؤنس کی منظوری سے صوبائی خزانے پر ماہانہ چار ارب تئیس کروڑ روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
تاہم پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور پولیس فورس کی فلاح و بہبود کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے اب اس حوالے سے حتمی فیصلہ صوبائی حکومت کو کرنا ہے۔